اسلام آباد،10دسمبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی اہلیہ بیگم ثمینہ عارف علوی نے خواتین کے لیے ایسے پروگرام شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جس سے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوں، خواتین کی صحت کو یقینی بنانا نہ صرف پاکستان کی ترقی کے لیے اہم ہے بلکہ خاندان کی صحت اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایسنڈ ایتھلیٹکس پاکستان کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ایسنڈ ایتھلیٹکس اسکردو، گلگت بلتستان میں کھیلوں اور شہری سرگرمیوں پر مبنی لیڈرشپ ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کررہا ہے ۔ پروگرام کے تحت گلگت بلتستان میں 60 لڑکیوں کو کوہ پیمائی اوراس کی قیادت، ذہنی صحت، عوامی خدمت اور عمومی طور پر جسمانی فٹنس کی تربیت دی جائے گی۔
تقریب میں گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت راجہ ناصر علی خان مقپون، پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم، پاک فضائیہ کے سابق سربراہ ائیر چیف مارشل (ر) سہیل امان، ایسنڈ ایتھلیٹکس کی چیف ایگزیکٹو آفیسر اور بانی مرینا لیگری کے علاوہ ملک کے معروف کوہ پیمائوں اور لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بیگم ثمینہ علوی نے امید ظاہر کی کہ یہ پروگرام خواتین کی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرنے کے علاوہ لڑکیوں کو معاشرے کی کارآمد اور فعال شہری بننے کے قابل بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ہماری آبادی کا تقریبا 50 فیصد ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ خواتین کو معیاری صحت کی سہولیات بروقت اور کم لاگت فراہم کی جائیں۔
خاتون اول نے خواتین میں غذائی قلت کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے موثر اقدامات کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے باعث سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خواتین اور بچوں میں غذائیت کی کمی اورغذائی قلت کا مسئلہ مزید بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خواتین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے پر زور دیا۔
بیگم ثمینہ علوی نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی مہم کے نتائج برآمد ہو رہے ہیں کیونکہ ابتدائی مراحل میں چھاتی کے کینسر کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ ہر ماہ جسمانی معائنہ کے لیے 5 منٹ نکالیں اور کسی بھی ابھار یا سوجن یا سینے یا اس کے آس پاس کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ قیمتی جانیں بچائی جاسکیں۔
خاتون اول نے کہا کہ معذور افراد کے حقوق اور اس تناظر میں معاشرے کی ذمہ داریوں کے حوالے سے آگاہی مہم بھی شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے اس مہم میں معاشرے کو شامل کرنے اور معذور افراد کو ان کے حقوق دینے کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور دیا اور کہا کہ اس کے علاوہ انہیں روزمرہ کی سرگرمیوں اور پروگراموں میں شامل کیا جائے تاکہ وہ خود کو معاشرے کے مرکزی دھارے سے الگ تھلگ محسوس نہ کریں۔
وزیر سیاحت گلگت بلتستان راجہ ناصر علی خان مقپون نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے جس سے تعاون اور اداروں کو مضبوط بنا کر فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جی بی میں ایڈونچر سپورٹس کو فروغ دینے کے لیے کوہ پیمائی اور راک کلائمبنگ کے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔
ائیر چیف مارشل (ر) سہیل امان نے کہا کہ کھیلوں نے قائدانہ صلاحیتوں، ٹیم ورک اور صلاحیتوں کی نشوونما میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی خواتین پہلے ہی زندگی کے مختلف شعبوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور ان میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں۔
ایسنڈ ایتھلیٹکس کی چیف ایگزیکٹو آفیسر اور بانی مرینا لیگری نے کہا کہ خواتین کی بہتر شرکت سے انسانی سلامتی اور معاشرے کی خوشحالی میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسنڈ ایتھلیٹکس ہر سال پاکستان میں لڑکیوں کو پہاڑوں پر چڑھنے کی تربیت دے گا، گلگت بلتستان میں قائدانہ صلاحیتوں کی نشوونما، جسمانی فٹنس، عوامی خدمت اور عوامی تقریر، ذہنی صحت کو فروغ دینے، اور لڑکیوں کو کوہ پیمائی اور چڑھنے کی مہارتیں فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی ۔











