دورہ توقعات سے زیادہ کامیاب رہا، روس پاکستان کو تیل، ڈیزل رعایتی نرخوں پر فراہم کرے گا، وزیر مملکت   ڈاکٹر مصدق ملک کی پریس کانفرنس

69

اسلام آباد۔5دسمبر  (اے پی پی):وزیر مملکت برائے پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ روس کا دورہ ہماری امیدوں سے زیادہ کامیاب رہا، روس پاکستان کو رعایتی قیمت پر تیل اور ڈیزل فراہم کرے گا، سرکاری ایل این جی کے معاہدوں اور بعض روسی کمپنیوں سے ایل این جی کے حصول کیلئے بات چیت شروع ہو گئی ہے، توانائی معاہدوں پر پیشرفت کیلئے روس کا سرکاری وفد جنوری کے وسط میں پاکستان کا دورہ کرے گا، ایران نے انسانی بنیادوں پر 2 ملین پائونڈ کی ایل پی جی دینے کا اعلان کیا ہے جس پر بات چیت مکمل ہو گئی ہے، اس کے علاوہ 2 ملین پائونڈ کی ایل پی جی آئندہ 10 یوم کے اندر پاکستان آ جائے گی تاکہ توانائی کے مسائل کو حل کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ روس جانا اس لئے بہت اہم تھا کیونکہ وزیراعظم نے واضح طور پر کہا کہ جو کارخانے بند ہو رہے ہیں یہ بند نہیں ہو نے چاہئیں، نوجوان جو گھر سے نکلتے ہیں وہ بے روزگار نہ ہوں، کارخانوں کی چمنیوں سے دھواں نکلتا رہے، وزیراعظم کا حکم ہے کہ یہ مسائل حل ہوں اور ماحول دوست کارخانوں کی چمنیاں چلتی رہیں، معیشت آگے بڑھے گی تو نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور اگر معیشت آگے نہیں بڑھے گی تو یہ نوجوان ڈگریاں لے کر کہاں جائیں گے ان کی حکومت سے امیدیں وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں بیشتر ممالک میں معاشی ترقی کیلئے ڈیڑھ سے 2 فیصد توانائی درکار ہوتی ہے اور بعض ممالک میں توانائی کی کمی نہیں لیکن اس کے باوجود معاشی ترقی کیلئے توانائی بہت ضروری ہے تاکہ نوجوانوں کو روزگار مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کم از کم 10 فیصد توانائی میں اضافہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کیلئے ہمیں توانائی چاہئے اس لئے ہم مختلف ممالک میں جا رہے ہیں جس کی پیشرفت سے وقتاً فوقتاً آگاہ کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے نوجوانوں کو روزگار دینے کے وژن کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے حال ہی میں روس کا دورہ کیا اور یہ دورہ ہماری توقعات سے زیادہ کامیاب رہا ہے، روس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ہمیں رعایتی نرخوں پر خام تیل دے گا جس پر بات چیت طے ہو گئی ہے، دوسرا یہ طے پایا ہے کہ روس کی طرف سے پاکستان کو ڈیزل بھی رعایتی نرخوں پر فراہم کیا جائے گا اور اتنے ہی ڈسکائونٹ پر تیل و گیس ملے گا جتنا ڈسکائونٹ دنیا میں کسی بھی مل رہا ہے۔ تیسرے نمبر پر ایل این جی پر بات ہوئی ہے، اس وقت ایل این جی کا پریشر بہت زیادہ ہے اس لئے بڑی روسی کمپنیوں کے پاس اس وقت ایل این جی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا ہمیں بتا رہی تھی کہ گلوبل فیبرک ہے جس کے تحت قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کر لی جائے اور ہم بھولے پن میں ان کی بات مانتے رہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سب نے ایل این جی خرید لی اور بعض ملک کوئلہ پر بھی منتقل ہو گئے اور ہم دیکھتے رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ملکی مفاد اور بین الاقوامی قواعد و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عمل کو آگے بڑھائیں جس کی ہمیں ضرورت ہے اور یہ معاہدے اسی کا حصہ ہیں، پاکستان کے مفاد کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس نے ہماری چند ایسی کمپنیوں سے رابطہ کرایا جن کے پاس اس وقت ایل این جی موجود تھی اور ان کمپنیوں سے ہماری بات چیت شروع ہو گئی ہے جو خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کی حکومت بھی ایل این جی کے دو نئے کارخانے لگا رہی ہے اور پاکستان کو پیشکش کی گئی ہے کہ وہ 2025-26ء کیلئے ابھی سے معاہدے کرنا شروع کر دے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہم نے قطر کے ساتھ بھی اسی طرح کے معاہدے کئے تھے جو پاکستان کیلئے فائدہ مند ثابت ہوئے۔ وزیر مملکت ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ گیس پائپ لائن پر کچھ ہمارے پرانے  معاہدے تھے ان پر بھی روس کی طرف سے دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے اور ہم نے روس سے کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں کچھ لچک کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ دو بڑے معاہدے جس میں سے ایک پاکستان سٹریم لائن معاہدہ جسے نارتھ سائوتھ پائپ لائن بھی کہتے ہیں اور دوسرا عالمی سطح پر گیس کے حصول کیلئے درکار پائپ لائن کے حوالہ سے بات چیت کا عمل بھی شروع ہوا ہے تاکہ اس بات کا علم ہو سکے کہ ہمیں کس قسم کی پائپ لائن چاہئے ہو گی۔