قومی اسمبلی میں بجٹ بحث: وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کا خطاب

2

اسلام آباد،19 جون (اے پی پی):قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پرجاری بحث کے دوران وزیرِ مملکت برائے خزانہ و محصولات  بلال اظہر کیانی نے حکومت کی معاشی پالیسی، اصلاحات اور مختلف شعبوں میں دیے گئے ریلیف اقدامات کا تفصیلی دفاع کیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ ایک جامع اور عوامی بجٹ ہے جو تنخواہ دار طبقے، صنعتکاروں، برآمد کنندگان، کسانوں اور عام شہریوں سمیت تمام طبقات کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔

وزیرِ مملکت نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف  کی قیادت میں حکومت نے معاشی استحکام کو اولین ترجیح دی اور گزشتہ عرصے میں مہنگائی میں کمی، مالی نظم و ضبط اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے معیشت کو بہتر سمت دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو 2024 میں مشکل معاشی حالات کا سامنا تھا، تاہم درست پالیسیوں کے نتیجے میں مالیاتی اشاریوں میں بہتری آئی۔ ان کے مطابق پرائمری سرپلس کے اہداف حاصل کیے گئے اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیز اور مالیاتی اداروں نے پاکستان کی معاشی کارکردگی کو تسلیم کیا ہے، جو حکومتی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو نمایاں ریلیف دیا گیا ہے، جس کے تحت مختلف آمدنی سلیبس میں انکم ٹیکس کی شرحیں کم کی گئی ہیں جبکہ سپر ٹیکس میں بھی بڑی حد تک کمی یا خاتمہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کے سپر ٹیکس سلیبس میں بھی کمی کی گئی ہے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے اور معیشت میں سرمایہ کاری بڑھے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ہر پاکستانی شہری کے لیے گھر کے خواب کو حقیقت بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے پراپرٹی ٹرانزیکشن ٹیکس (236C اور 236K )میں نمایاں کمی کی گئی ہے، جس کے تحت خریدار اور فروخت کنندہ دونوں پر ٹیکس ریٹس میں کمی کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ “اپنا گھر اسکیم” کے لیے 71 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کے تحت کم آمدن افراد کو ایک کروڑ روپے تک کے قرضے 5 فیصد شرح سود پر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اب تک ہزاروں افراد اس اسکیم سے فائدہ اٹھا چکے ہیں جبکہ اربوں روپے کے قرضے منظور اور جاری کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان کے لیے ایڈوانس انکم ٹیکس میں کمی کی گئی ہے تاکہ ایکسپورٹ سیکٹر کو سہولت ملے۔ آئی ٹی سیکٹر کی ترقی کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔

زرعی شعبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ چھوٹے کسانوں کے لیے بڑے پیمانے پر قرضہ اسکیمیں متعارف کرائی گئی ہیں، جن میں 300 ارب روپے کی کریڈٹ سہولت اور 110 ارب روپے کی خصوصی زرعی اسکیم شامل ہے، جس پر 10 ارب روپے کی سبسڈی بھی دی گئی ہے۔ زرعی مشینری پر ڈیوٹیز بھی ختم کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کی ہائجین پروڈکٹس پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، جو سماجی شعبے میں ایک اہم قدم ہے۔ آبادی کے بڑھتے ہوئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے بھی اقدامات بجٹ کا حصہ ہیں۔

وزیرِ مملکت نے کہا کہ یہ بجٹ محض ایک مالی دستاویز نہیں بلکہ ایک جامع اصلاحاتی پیکج ہے جس کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا، عوام کو ریلیف دینا اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔