وفاقی حکومت سندھ کے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی ،وزیراعظم محمد شہباز شریف

25

خیرپور۔21دسمبر  (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سندھ کے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے اقدامات جاری رہیں گے، سیلاب متاثرین کیلئے ملنے والے عطیات شفاف طریقہ سے خرچ کئے جائیں گے، سیلاب متاثرین کو گھر تعمیر کرکے دیں گے۔  ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو سیلاب سے متاثرہ ضلع خیرپور کے تعلقہ کوٹ ڈیجی اور  پیرگوٹھ  کے دورے کے موقع پر سیلاب متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی  و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات  و نشریات مریم اورنگزیب، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔  وزیر اعظم شہباز نے سیلاب متاثرین سے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ کے لوگوں کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا  ہے ، سیلاب سے صوبے میں بہت  تباہی  ہوئی ہے، وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو بھرپور وسائل فراہم کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت وفاقی حکومت نے سیلاب متاثرین میں 70 ارب روپے تقسیم کئے ہیں،عوام کی خدمت اور ان کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بحالی اور تعمیر نو کا کام کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے تاہم دادو کے زیر آب علاقوں سے پانی نکالنے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے 90 لاکھ بچوں سمیت تقریباً 2 کروڑ افراد کو حکومت کی جانب سے امداد کی اشد ضرورت ہے اور خوراک اور ادویات کی فراہمی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اربوں روپے درکار ہیں۔  انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر کاربن گیسوں کے اخراج میں انتہائی معمولی حصہ ہونے کے باوجود پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے مسئلہ  کا سامنا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کے فلڈ ریلیف فنڈ میں 2 ارب 75 کروڑ روپے کے عطیات دینے پر سمندر پار پاکستانیوں کی تعریف کی اور کہا کہ یہ رقم سیلاب متاثرین کی فلاح و بہبود کے لئے شفاف طریقے سے خرچ کی جائے گی۔  انہوں نے سیلاب زدہ لوگوں کو یقین دلایا کہ حکومت ان کی مناسب رہائش کے لئے مکانات تعمیر کرے گی۔  انہوں نے خیرپور میں کامسیٹس یونیورسٹی کے کیمپس کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ وزیراعظم نے عارضی کیمپوں میں سیلاب سے متاثرہ افراد سے ملاقات کی اور انہیں حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی اہم ہے جنہیں فوڈ سکیورٹی اور رہائش کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سیلاب کی روک تھام کیلئے قدرتی آبی راستوں کو صاف کرنے اور ان کی بہتری کیلئے فنڈز کی ضرورت ہے، وفاقی حکومت اس سلسلہ میں صوبائی حکومت کی مدد کرے۔  وزیراعظم شہباز شریف کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری بحالی اور تعمیر نو کے منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔   وزیراعظم کو بتایا گیا کہ زیادہ تر سیلاب زدہ علاقوں سے پانی نکال دیا گیا ہے اور  بجلی کی فراہمی مکمل طور پر بحال ہو چکی ہے۔ ۔قبل ازیں وزیراعظم شہبازشریف کو دوران پرواز چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے حوالہ سے بریفنگ  دی۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو متاثرہ علاقوں سے سیلابی پانی کی نکاسی اور بحالی کی کارروائیوں سے آگاہ کیا ۔ وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں سے سیلابی پانی نکالنے کے لئے اقدامات تیز کرنے ، اضافی مشینری، افرادی قوت اور وسائل بروئے کار لانے  اور سردی کی آمد کی وجہ سے متاثرین کی بحالی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے این ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ صوبائی حکومتوں اور اداروں کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں دن رات کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔  وزیراعظم نے کہا کہ یہ ایک قومی خدمت ہے، قومی خدمت کے جذبے کے ساتھ ہی کام کرنا ہوگا۔وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لیا اور بحالی کے کام کا معائنہ کیا۔