اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر گہری تشویش کا اظہارکیا ہے، افغانستان میں امن و استحکام پاکستان کے مفاد میں ہے، پاکستان اور ترکیہ نے تجارتی اور اقتصادی روابط بڑھانے اور سٹریٹجک ڈائیلاگ اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے جمعہ کو پریس بریفنگ میں کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے 25 سے 26 نومبر تک ترکیہ کا دورہ کیا، اس دورہ کی دعوت انہیں ترک صدر رجب طیب اردگان نے دی تھی، استنبول میں وزیراعظم نے ترکیہ کے صدر کے ساتھ ون آن ون اور وفود کی سطح پر بات چیت کی۔ ترجمان نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے، تجارتی اور اقتصادی روابط بڑھانے اور سٹریٹجک ڈائیلاگ اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، انہوں نے توانائی اور رابطے کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے دورہ کے دوران پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کے حوالے سے ترکیہ کے سرمایہ کاروں کو آگاہ کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ حال ہی میں ٹریڈ اینڈ گڈز معاہدہ پر دستخط سے دوطرفہ تجارت کے حجم کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔ ترجمان نے کہا کہ وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے 29 نومبر کو افغانستان کا ایک روزہ دورہ کیا، کابل میں انہوں نے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی، نائب وزیر اعظم عبدالسلام حنفی اور افغان عبوری حکومت کے دیگر عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔ دورے کے دوران انہوں نے تعلیم، صحت، زراعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے علاوہ علاقائی اور عوامی رابطوں اور سماجی و اقتصادی منصوبوں سمیت متعدد دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ترجمان نے کہا کہ حنا ربانی کھر کے دورہ کے دوران علاقائی سلامتی سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ وزیر مملکت برائے امور خارجہ نے دورہ کے دوران ایک پرامن، خوشحال، مستحکم اور منسلک افغانستان کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک نہ صرف مذہب، ثقافت اور تاریخ کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں بلکہ ان کا مستقبل بھی اندرونی طور پر جڑا ہوا ہے، افغانستان میں امن و استحکام پاکستان کے مفاد میں ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ فریقین نے علاقائی رابطوں کو بڑھانے کے بارے میں یکساں خیالات کا اظہار کیا جس میں کاسا 1000 اور تاپی گیس پائپ لائن جیسے منصوبے شامل ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ افغانستان کی اقتصادی ترقی میں خواتین کے اہم کردار کا اعتراف کرتے ہوئے وزیر مملکت نے پاکستان اور افغانستان کے کاروباری اداروں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی حوصلہ افزائی کی ہے، پاکستان افغانستان کو صحت کی دیکھ بھال تک رسائی اور علاج کے لیے پاکستان آنے والوں کو سہولت فراہم کرے گا۔ ترجمان نے کہا کہ وزیر مملکت کے دورہ کابل کا مقصد اس اہمیت کو اجاگر کرنا تھا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔











