سیالکوٹ۔2فروری (اے پی پی):پاکستان میں جمہوریہ ترکیہ کے سفیرڈاکٹر مہمت پیکاسی نے کہا ہے کہ ترکیہ پاکستان کے ساتھ باہمی تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کا خواہاں ہے، پاکستان اور ترکی کے درمیان باہمی تجارت کے فروغ کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کوششیں کرنے کا عہد کیا ہے۔یہ بات انہوں نے آج یہاں سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ سیالکوٹ کے برآمد کنندگان کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر صدرسیالکوٹ چیمبر عبد الغفور ملک،سنیئر نائب صدر وہب جہانگیر،نائب صدر عامر مجید شیخ ،ایگزیکٹو ممبران سمیت سیالکوٹ کی تاجر برادری کی بڑی تعداد موجود تھی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےپاکستان میں جمہوریہ ترکیہ کے سفیرکا کہنا تھا کہ ترکیہ کا مقصد پاکستان کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو بڑھانا اور مضبوط کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ نے تجارتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس سے اصولی طور پر دونوں ممالک کو تجارت کا حجم بڑھانے کے لیے ایک دوسرے کی منڈیوں تک زیادہ رسائی حاصل ہو گی۔انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریق اگلے چند سالوں میں دو طرفہ تجارتی حجم کو 5 بلین ڈالر تک بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان نے گزشتہ سال اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کا 75 واں سال منایا،دونوں ممالک کے تاجر ایک دوسرے کو زیادہ سے زیادہ جانیں اور تجارتی و اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے سخت محنت کریں ، انہوں نے یقین دلایا کہ ان کا سفارت خانہ ایسی کوششوں میں مکمل تعاون کرے گا۔انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارتی روابط کے فروغ کا انحصار دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی، بات چیت اور افہام و تفہیم پر ہے۔انہوں نے سیالکوٹ کے برآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی لائن میں تنوع لانے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ میں سب سے زیادہ جدید اشیا ءتیار کی جاتی ہیں۔سفیر نے یقین دلایا کہ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان باہمی تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے ترکیہ کی جانب سے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ دو برادر ممالک ہیں جن کے درمیان صدیوں پرانا رشتہ ہے۔ ترک عوام پاکستانی بھائیوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ ہم اس نازک دور میں پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔سفیر نے کہا کہ وہ ترک تاجر برادری کو سیالکوٹ کی بنی ہوئی مصنوعات براہ راست سیالکوٹ پاکستان سے خریدنے کی ترغیب دیں گے بجائے اس کے کہ وہ سیالکوٹ کی بنی ہوئی مصنوعات کو دوسرے ممالک سے زیادہ قیمتوں پر خریدیں۔











