چیئر پرسن کمیٹی سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بحری اُمور کا اجلاس

28

اسلام آباد.15فروری  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور نے گوادر پورٹ ماسٹر پلان کے مطابق زمین خریداری کے منصوبے کو  پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ  کمیٹی نے کورنگی فشریز ہاربر کے حکام کو ہدایات  جاری کی ہیں کہ “جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی” کی جانب سے فنڈڈ بزنس پارک، کولڈ اسٹوریج اور آکشن ہال کی تعمیر کو بھی آئندہ مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں شامل کیا جائے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بحری اُمور کا اجلاس بدھ کو یہاں  چیئر پرسن کمیٹی سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزارت بحری امور اور ماتحت محکمہ جات کے مالی سال 2023-24 کے لیے مجوزہ پی ایس ڈی پی کی جانچ پڑتال کی گئی۔ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے حکام نے کمیٹی کو ایل این جی بردار جہاز کی خریداری کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان سالانہ تقریباً 4.56 ارب ڈالر کی پیٹرولیم گیسز درآمد کرتا ہے اور اس کےلئے غیر ملکی سپلائرز سے ایل این جی کی ٹرانسپورٹ کےلئے معاہدے کئے جاتے ہیں۔ پی این ایس سی، ایل این جی بردار جہاز خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے جس سے ملک کو قیمتی زر مبادلہ کی بچت ممکن ہو سکے گی۔ چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر روبینہ خالد نے اس عمل کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کو مستقبل میں مزید ایسے جہازوں کی ضرورت ہوگی۔ حکام نے بتایا کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن مستقبل میں پاکستان کی ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے مزید ایل این جی بردار جہاز خریدنے  کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔ حکام نے کورنگی فشریز ہاربر کی جیٹیوں,چار دیواری اور متعلقہ ڈھانچے کی بحالی کیلئے 453 ملین کی لاگت کے مجوزه منصوبہ جات پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔ کمیٹی نے چاردیواری کے ساتھ ساتھ کورنگی فشریز ہاربر کے اندر “جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی” کی جانب سے فنڈڈ بزنس پارک، کولڈ اسٹوریج اور آکشن ہال کی تعمیر کو بھی آئندہ مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کی ہدایت دی۔ گوادر پورٹ اتھارٹی کے حکام نے مالی سال 2023-24 کےلیے مجوزہ پی ایس ڈی پی منصوبہ جات پر کمیٹی کو بریفنگ دی جن میں، سی پیک سپورٹ یونٹ، جی پی اے ہاؤسنگ کمپلیکس سیوریج ٹریٹمنٹ، گوادر پورٹ ڈرجینگ و مینٹينس، جی پی اے ہیڈ آفس بحالی اور آف ڈاک ٹرمینل لینڈ کی حفاظت کے منصوبہ جات شامل ہیں۔ کمیٹی نے گوادر پورٹ ماسٹر پلان کے مطابق زمین کی خریداری کو بھی پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کی ہدایت کر دی۔کراچی پورٹ ٹرسٹ حکام نے کمیٹی کو بریفینگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک کی %59 بحری تجارت کراچی پورٹ سے کی جاتی ہے لیکن پورٹ تک روڈ کنیکٹوٹی کو بہتر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ حکام کا مزید کہنا تھا کہ مستقبل میں پورٹ پر آمد و رفت میں اضافہ ہوگا جس کو مدِنظر رکھتے ہوئے روڈ لنکس کو بہتر کرنا نہایت ضروری ہے۔ چیئر پرسن کمیٹی نے کہا کہ کراچی پورٹ سے تجارت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اسلئے اس پر فوراً توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ نے بھی  آئندہ مالی سال کےلیے پی ایس ڈی پی منصوبہ جات کی تفصیل کمیٹی اجلاس میں پیش کی۔ ضروری غور و خوص کے بعد کمیٹی نے وزارت کے تمام مجوزه پی ایس ڈی پی منصوبہ جات کی منظوری دے دی۔ کمیٹی اجلاس میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے مجوزہ ٹیرف اور لندن میں میری ٹائم کوآرڈینیٹر کی تقرری، کام اور کارکردگی پر بھی غور کیا گیا۔  اجلاس میں سینیٹرز، دوست محمد خان، دنیش کمار، محمد اکرم، سیکریٹری وزارت بحری اُمور، چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ، چیئرمین پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن اور گوادر پورٹ اتھارٹی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔