اسلام آباد، 08 مارچ ( اے پی پی): اسلام نے خواتین کو وہ حقوق دیے ہیں جن کا اس سے قبل تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ خواتین ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی بہتری کے لیے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ یہ بات مققررین نے خواتین کے عالمی دن پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس کا اہتمام سوشل ویلفیر ڈیپارٹمنٹ راولپنڈی ویمن فاؤنڈیشن اور پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) نے کیا۔
شرکاء میں سوشل ویلفیر کے ڈائریکٹر رانا شاہد ڈپٹی ڈائریکٹر نبیلہ ملک پناہ کے سیکٹری جنرل ثناءاللہ گھمن اور ویمن فونڈیشن ک چیرپرسن تھی
رانا شاہد صاحب نے کہا کہ خواتین پاکستانی معاشرے کا 51فیصد ہیں۔ ان کی شرکت اور انہیں empowerکیے بغیر معاشرے کی ترقی ناممکن ہے۔ ہمیں خواتین کو وہ تمام حقوق دینے چاہییں نبیلہ ملک نے کہا کہ خواتین اپنی تمام صلاحیتوں کو بروے کار لاتے ہوئے اپنی، اپنے خاندان اور معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں۔
پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے سیکریٹری جنرل ثناہ اللہ گھمن نے کہا کہ خواتین کا نئی نسل کو بہترین اور صحت مند رکھنے میں ایک اہم کردار ہے۔ نوجوان نسل ہمارے ملک کا مستقبل ہے۔ وہ صحت مند ہو گی تو ملک کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہو گا۔ خواتین کے اس عالمی دن پر میرا پیغام ہے کہ وہ پاکستان کے مستقبل کو شاندار بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
پناہ کے ٹیکنیکل ایڈوائزر منور حسین نے کہا کہ پاکستان میں خواتین اور بچوں کی بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ بچوں میں بلخصوص مضر صحت کھانوں کا رحجان تیزی سے بڑھ رہا ہے جیسے زیادہ تلے ہوئے کھانے، میٹھے مشروبات اور اس طرح کی دیگر چیزیں۔ خواتین یہ عہد کریں کہ وہ کھانے کے حوالے سے بچوں کے لیے صحت مند غذاوئں کا انتخاب کریں گی۔ تاکہ ہمارے ملک کو ایک صحت مند قوم مل سکے۔











