عدلیہ کے اندر سے امید کی نئی کرن سامنے آئی ہے، آج ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ قانون و آئین کی پیروی کرنی ہے یا جنگل کا قانون چلے گا؛وزیراعظم محمد شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں خطاب

15

اسلام آباد،28مارچ  (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ عدلیہ کے اندر سے امید کی نئی کرن سامنے آئی ہے، آج ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ قانون و آئین کی پیروی کرنی ہے یا جنگل کا قانون چلے گا، جب عدل ہوتا نظر آئے گا تو ملک سے خطرات کے بادل چھٹ جائیں گے،  آئین نے عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کے اختیارات طے کرکے ریڈ لائن لگا دی ہے، پارلیمنٹ آئین و قانون کے تحت ساری صورتحال کو زیر بحث لا کر فیصلہ کرے، جتھوں کے ساتھ عدلیہ کو بلیک میل کرنے، آئین و قانون کو نہ ماننے والے لاڈلے کو ضمانتیں دی جا رہی ہیں، ہم اس لاڈلے کو ملک سے کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، آج شرافت کا مقابلہ بدمعاشی سے ہے، جمہوریت اور فسطائیت کے درمیان لڑائی ہے، یہ اجتماعی بصیرت کے ساتھ فیصلہ کرنے کا وقت ہے، قانون کو تسلیم نہ کرنے والوں سے کوئی بات نہیں ہو سکتی۔

منگل کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سپیکرقومی اسمبلی اور پوری قوم کو آئین کی گولڈن جوبلی پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ وہ دستاویز ہے جس کی تخلیق کیلئے اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر مذہبی اور سیاسی زعماء نے تمام تر اختلافات کے باوجود اور ذاتی پسند و ناپسند ترک کرکے یہ آئین بنایا جو پاکستان کی تاریخ میں ایک درخشندہ مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ایوان میں مسلمان اور غیرمسلم دونوں بیٹھے ہیں، ملک کا مذہب اسلامی اور سیاست جمہوری ہے، اس آئین نے ہماری مذہبی روایات کے ساتھ ساتھ چاروں صوبوں کو ایک لڑی میں پرو رکھا ہے، ہمارے زعماء کو تاریخ ہمیشہ سنہری حروف سے یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ہم اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے تھے اور مختلف سیاسی جماعتوں نے ملک کو مشکل حالات سے نکالنے اور ریاست کو بچانے کیلئے اپنی سیاست کو دائو پر لگایا اور عدم اعتماد کی تحریک لانے کا فیصلہ کیا۔

 وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ 1971 کے سانحہ میں پوری قوم کیلئے ایک سبق تھا کہ پاکستان کو معرض وجود میں آئے ہوئے ابھی 25 سال گزرے تھے کہ ملک دولخت ہو گیا حالانکہ کروڑوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین نے اداروں کے اختیارات میں تقسیم واضح کر دی ہے کہ عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کے یہ یہ اختیارات ہوں گے، آئین نے ایک ریڈ لائن لگا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس آئین کا سنگین مذاق اڑایا جا رہا ہے، اسی آئین میں درج عدلیہ کے اختیارات کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں، ایک لاڈلہ کسی عدالت کے سامنے نوٹسز ملنے کے باوجود پیش نہیں ہوتا اور رات کے اندھیرے میں اسے ریلیف ملتا ہے، اس نے عدلیہ کا مذاق اڑایا، خاتون جج کے حوالے سے اس کی باتوں کا کسی نے نوٹس نہیں لیا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ جب ہم اپوزیشن میں تھے تو کس طرح ہمارے خلاف بددیانتی سے جھوٹے مقدمات بنائے، قوم کی ایک بیٹی کو چاند رات کو گرفتار کیا جاتا ہے اور وہ جیل میں باپ سے ملنے آتی ہے تو اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے، کیا کسی نے اس بات کا کوئی ایکشن لیا؟ اور ایک لاڈلہ جو قانون کو ردی کی ٹوکری میں ڈال رہا ہے اس کا کسی نے نوٹس نہیں لیا، یہ وہی لاڈلہ ہے کہ جس کے حواریوں نے سپریم کورٹ کے باہر گندے کپڑے لٹکائے اور قبریں کھودیں۔ انہوں نے کہا کہ اس لاڈلے کی حکومت نے آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کیا اس کی خلاف ورزی موجودہ حکومت نے نہیں کی بلکہ اس لاڈلے نے خود خلاف ورزی کی اور ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچا دیا، ہم نے بڑی مشکل سے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، اب آئی ایم ایف ہم سے ہر قدم پر ضمانتیں مانگتا ہے، وزیر خزانہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے ملک کو ان حالات سے نکالنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔

 وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ عمران نیازی کے چار سالہ دور میں ملک کے 70 فیصد قرضے بڑھ گئے اور ایک نئی اینٹ تک نہیں لگائی گئی، انہوں نے دو کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھروں کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رمضان میں چاروں صوبوں میں مفت آٹا تقسیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سفید پوش طبقہ تنگ دست ضرور ہوتا ہے مگر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا، مگر آج سفید پوش طبقہ بھی لائنوں میں لگا ہے، یہ ہے وہ تباہی جس پر عمران نیازی نے ملک کو پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الزام یہ لگایا گیا کہ یہ حکومت امریکی سازش کے تحت قائم ہوئی ہے، وہ کئی ماہ تک یہ جھوٹ قوم کے سامنے بولتا رہا، اس تواتر کے ساتھ جھوٹ بولنے کی وجہ سے لوگ یہ سمجھنا شروع ہو گئے کہ واقعی امریکہ کی سازش کے تحت حکومت گرائی گئی ہے؟ مگر اب وہ خود یہ کہہ رہا ہے کہ یہ امریکی سازش نہیں تھی یہ اپنوں کی سازش تھی، اس کے اسی طرح کے ٹوپی ڈراموں نے پاکستان کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔

 وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور ہم امریکہ سمیت دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین سمیت دیگر برادر ممالک کے ساتھ خارجہ محاذ پر اس نے تعلقات خراب کئے۔ انہوں نے کہا کہ اب نئے لوگ تیار کرکے پاکستان کے خلاف بیانات دلوائے جا رہے ہیں، یہ ہمیں کہتا تھا کہ اپوزیشن والوں کو سفارتکاروں کے ساتھ ملنے کا کوئی حق نہیں، اب یہ خود دن رات سفارتکاروں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں، یہ وہ حالات ہیں کہ جس کی وجہ سے قوم ورطہ حیرت میں ہے اور پوری قوم تقسیم در تقسیم ہوئی، مگر اس لاڈلے کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، اللہ بزرگ و برتر پاکستان کی حفاظت فرمائے گا مگر اس لاڈلے کو ملک سے کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔