تمباکو نوشی انسانی زندگی کیلئے زہر قاتل ہے،ڈائریکٹرحج ریحان عباس کھوکھر

39

ملتان۔ 31 مئی (اے پی پی):ڈائریکٹر حج وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی ملک ریحان عباس کھوکھر نے کہا ہے کہ دنیا میں 80 لاکھ افراد سالانہ تمباکو نوشی کی وجوہات کی بنا پر انتقال کرجاتے ہیں، تمباکو نوشی انسانی زندگی کیلئے زہر قاتل ہے ،معاشرے میں استعمال ہونے والا سب سے عام نشہ سگریٹ ہے بدقسمتی سے اسے نشہ ہی نہیں سمجھا جاتا مگر در حقیقت یہ ایک سنگین بیماری ہے جوانسان کو موت کے دہانے پر لا کھڑا کرتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ انسداد تمباکو نوشی کے موقع پر ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن ملتان کے زیراہتمام رائل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (رمز کالج) ملتان میں منعقدہ سیمینار سے خطاب میں کیا،جس کی صدارت ڈاکٹر نثار الرحمان ڈین رائل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (رمز کالج) ملتان نے کی جبکہ مہمانان خصوصی میں سیاسی و سماجی رہنما چوہدری ابرار حسین اور صدر ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن نعیم اقبال نعیم شامل تھے جبکہ دیگر شرکائ خاص میں سیاسی و سماجی رہنما رشید عباس خان، ڈاکٹر خواجہ علی زاکر، فرحان انصاری و دیگر شریک تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر حج ملک ریحان عباس کھوکھر نے کہا کہ دنیا بھر میں سگریٹ پینے والوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے، تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد ریکارڈ ایک ارب دس کروڑ تک پہنچ گئی ہے، یہی نہیں بلکہ سینکڑوں ارب روپے کا ٹیکس بھی چوری ہورہا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر نثار الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ تمباکو نوشی سے پندرہ مختلف قسم کی بیماریاں پھیلتی ہیں جس میں پھیپھڑوں کا کینسر اور دل کا دورہ سر فہرست ہے اس کے باوجود لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ پاکستان میں سگریٹ و تمباکو استعمال کرنے والے افراد کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس اضافے کا بڑا سبب نوجوان طبقہ ہے جو شوقیہ طور پر سگریٹ نوشی کرتے ہیں اور پھر وہ ہیروئن، چرس، تمباکو پان، گٹکا، شیشہ اور دوسرے بہت سے نشوں کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئی نسل میں اس حوالے سے شعوری آگاہی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔چوہدری ابرار حسین اور نعیم اقبال نعیم نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ و تمباکو نوشی کے باعث ہر چھ سیکنڈ کے بعد ایک شخص موت کو گلے لگا رہا ہے اس طرح دنیا بھر میں ہر سال اسی لاکھ افراد تمباکو نوشی کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں 31 مئی انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن کی مناسبت سے ہمیں زیادہ سے زیادہ لوگوں میں اس کے نقصانات کو اجاگر کرنا چاہئے۔ رشید خان اور پروفیسر محمد طلحٰہ سیال نے کہا کہ پاکستان میں سگریٹ و تمباکو نوشی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے کوششیں تو کی جارہی ہیں مگر وہ سب نہ ہونے کے برابر ہیں حکومت کو چاہیے کہ وہ انسداد تمباکو نوشی کے حوالے سے سخت قوانین بنائے تاکہ اس کے استعمال سے جو سالانہ لاکھوں افراد موت کے منہ میں جانے پر مجبور ہورہے ہیں ان کی زندگیاں محفوظ ہوسکیں۔اس موقع پر طلبا و طالبات حجاب فاطمہ، علیشہ، محمد طلحہ ظفر اور مدثر آزاد ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ سیمینار کے اختتام پر کالج سے مین شاہراہ تک شعوری آگہی واک کا اہتمام کیا گیا۔