اسلام آباد۔10مئی (اے پی پی): سابق چیئر مین سینٹ فاروق ایچ نائیک نے بدھ کو قومی اسمبلی میں آئین کی گولڈن جوبلی تقریبات کی مناسبت سے منعقدہ بین الاقوامی کنونشن کے پہلے روز بدلتے ہوئے عالمی توازن میں آئین ، استحکام اور موافقت کے موضوع پر سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہےکہ آئینی جمہوریت میں ادارے بہتر انداز میں کام کرتے ہیں،مقامی اور عالمی بحران سے بچنے کے لئے ملک میں جمہوری کا بنیادی ڈھانچہ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور دوسری ضروریات سے مل مسائل کا حل ممکن ہوتا ہے،ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے جہاں فائدہ مند ہے وہیں ایک چیلنج بھی ہے،ابھرتے ہو ہے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے لئے قانون سازی وقت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم جمہوریت کے فروغ اور قانون کی حکمرانی کے لئے بہتر انداز میں استعمال ہو سکتے ہیں،اکنامک گروتھ، ٹیکس ، فنانشل مارکیٹ بھی عالمی تناظر میں آج چیلنج ہے،اگر مل کر کام کیا جائے تو ان مشکلات سے با آسانی نکلا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امیگریشن بھی اہم مسئلہ ہے اسے بھی بہتر انداز میں درست سمت میں چلایا جا سکتا ہے۔آذربائیجان ریپبلک کی مجلس کے ڈپٹی چیئرمین عادل آبش نے کہا کہ آئین میں سب لوگوں کی رائے شامل ہوتی ہے اس میں وقتاً فوقتاً ترامیم بھی کی جاتی ہیں۔انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ہماری زندگیوں کا حصہ بن چکے ہیں اب انہیں ہم اپنی زندگی سے نہیں نکال سکتے سوشل میڈیا بین الاقوامی تعلقات میں بہتری لانے میں مدد دیتا ہے مگر جب اس کا غلط استعمال ہوتا ہے تو یہ بہت نقصان کا باعث بن جاتا ہے انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور نسل کشی کی وارداتیں ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہیں ۔ اس حوالے سےقانون سازی کی جانی چاہیے کیونکہ سوشل میڈیا کے قوانین کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے ہم ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ تاکہ ہماری آزادی اور حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ بین الاقوامی تعلقات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے مگر اس کے غلط استعمال سے یہ متاثر ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کانفرنس کے مندوبین سے کہا کہ انسانی آزادیوں اور حقوق کا ہمیں مل کر دفاع کرنا ہوگا ۔ عالمی سطح پر کئی شعبے ایسے ہیں جنھیں بہتر بنانے کے لئے ہیں انکم ٹیکس سے کچھ عرصے کے لیے مستثنیٰ قرار دیا کیا جانا چاہیے۔











