ملتان،03 مئی(اے پی پی):فارمرز ایڈوائزری کمیٹی سی سی آر آئی ملتان کے تیسرے اجلاس میں کاشتکاروں کو کپاس کی جڑی بوٹیوں کی تلفی بذیعہ مربوط طریقہ انسداد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا تیسرا اجلاس بدھ کو سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں منعقد ہوا جس کی صدارت ڈاکٹر زاہد محمود ،ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ،ملتان نے بذریعہ آن لائن کی۔اجلاس میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے کپاس کے کاشتکاروں کی رہنمائی وتربیت کے لئے کپاس کی کاشت سے متعلق 15مئی تک کے لئے آئندہ پندرہ روزہ سفارشات پیش کی گئیں۔
سفارشات میں کہا گیا ہے کہ کاشتکار کپاس کی جڑی بوٹیوں کو نظر انداز ہرگز نہ کریں بلکہ جلد از جلد ان کی تلفی کو بذریعہ مربوط طریقہ انسداد یقینی بنائیں۔ جب کپاس چھ انچ کی ہوجائے تو کاشتکار جڑی بوٹیاں اگنے کے بعد سپرے کریں ،جڑی بوٹیاں کپاس کے ابتدائی مراحل میں کافی نقصان پہنچاتی ہیں،جڑی بوٹیوں کی افزائش کو روکنے کے لئے کپاس کو مناسب پانی لگایا جائے، آبپاشی کا کم یا زیادہ دورانیہ جڑی بوٹیوں کی بہتات کا باعث بنتا ہے اس لئے فصل کو ضرورت کے مطابق پانی دیا جائے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ کاشتکار چھدرائی کا عمل20تا25دنوں میں مکمل کر لیں اور اس دوارن کھیت سے کمزور، بیمار اور متاثرہ پودے باہر نکال دیں۔ کپاس کی بجائی سے پہلے کاشتکار پینڈی میتھا لین بحساب 1200 ملی لٹر فی ایکڑ استعمال کریں یا پھر بجائی کے فوراً بعد24گھنٹے کے اندر ایس میٹالا کلوربحساب800ملی لٹر فی ایکڑ استعمال کریں اور پودوں کی تعداد 17000 تا 23000 فی ایکڑ رکھیں۔
اجلاس میں کاشتکاروں کو سفارشات پیش کی گئیں کہ کاشتکار گلائیفو سیٹ کے خلاف مدافعت والی (ٹرپل جین) اقسام میں بجائی کے وقت جڑی بوٹیوں والا سپرے نہ کریں۔کاشتکار15تا20دن کے بعد جڑی بوٹیاں اگنے پر گلائیفوسیٹ بحساب1لٹر فی ایکڑ تمام کھیت میں سپرے کریں اور اس کے7دن بعد چھدرائی کریں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ زیادہ گرمی کے موسم یا پانی کی کمی کے علاقوں میں بیج کو کاشت سے پہلے4تا 6 گھنٹےپانی میں بھگو دیں اور صبح کے وقت کاشت کریں اس سے اگاﺅ2 سے3دن میں مکمل ہوجائے گا اور اضافی پانی کی ضرورت نہیں رہے گی اور وقت کی بھی بچت ہوگی۔
اجلاس میں کپاس کی کاشت سے پہلے زمین کا تجزیہ کی سفارشات پر زور دیا گیا تاکہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق سفارش کردہ کھادوں کا استعمال یقینی بنایا جائے۔ کاشتکار فاسفورس کھاد چھدرائی کے بعدبذریعہ آبپاشی دیں یا وتر پر کھیلیوں میں ڈال کر رجر یا ہل چلا دیں تاکہ کھاد اچھی طرح مکس ہو جائے۔
اجلاس میں بتایا گیا جو فصل ڈودیاں اور پھل اٹھا رہی ہو اس میں نائٹروجن کھاد کم از کم آدھی بوری ضرور دیں اور پوٹاشیم والی کھا د کا ستعمال بذریعہ آبپاشی ضرور کریں۔کاشتکارکھیلیوں کی صورت میں کپاس کی کاشت کے لئے90فیصد اگاﺅ کی صورت میں4کلوگرام ،75فیصد اگاﺅ کی صورت میں4.5کلوگرام اور60فیصد اگاﺅکی صورت میں5کلوگرام براترا بیج استعمال کریں جبکہ بذریعہ ڈرل کاشت کی صورت میں90فیصد اگاﺅ پر8کلوگرام،75فیصد اگاﺅ پر9کلوگرام اور60فیصد اگاﺅ کی صورت میں10کلوگرام بر اترا بیج استعمال کریں۔ بی ٹی اقسام کی کاشت کے ساتھ10فیصد نان بی ٹی اقسام بھی ضرور لگائیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ایسی زمینیں جہاں پانی کی کمی ہو وہاں پر دیگر اداروں کی منظور شدہ اقسام کے ساتھ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کی اقسام بی ٹی سی آئی ایم663،بی ٹی سی آئی ایم678اور بی ٹی سائیٹو535 کاشت کی جائیں اور جہاں پانی وافر مقدار میں دستیاب ہو تو کاشتکار بی ٹی سی آئی ایم785،بی ٹی سی آئی ایم343،بی ٹی سی آئی ایم632اور بی ٹی سائیٹو537کاشت کی جائیں ۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ کاشتکار بیج کا انتخاب اپنے علاقے کے موسمی حالات اور زمین کی ساخت کے مطابق کریں اور کپاس کے پیداواری منصوبے میں علاقہ کے لئے سفارش کی گئی کپاس کی اقسام کاشت کریں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ کپاس کی کاشت سے پہلے بیج کی ٹریٹمینٹ کسی اچھی کمپنی کے کیڑے مار زہر سے کی جائے ۔ اس عمل سے فصل پہلے30تا40دن رس چوسنے والے کیڑوں سے محفوظ رہے گی۔اگر فصل6انچ کی ہوگئی ہے تو کاشتکار سفید مکھی کے حملہ سے بچاﺅ کے لئے پیلے رنگدار چپکنے والے پھندوں کا استعمال کریں اس کے لئے10عدد پھندے فی ایکڑ لگانے کی سفارش پیش کی گئی اور جہاں ڈوڈیا ں لگنی شروع ہو گئی ہیں کاشتکار وہاں گلابی سنڈی کے حملے سے حفاطت کے لئے8عدد جنسی پھندوں کا استعمال کریں۔ اجلاس میں زمین کی تیاری کے لئے لیزر لینڈ لیولر کے استعمال کی بھی سفارش کی گئی۔
اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے سربراہان ڈاکٹر محمد نوید افضل ،ڈاکٹر محمد ادریس خان، ڈاکٹر فیاض احمد،مس صباحت حسین ،ساجد محمود،ڈاکٹر رابعہ سعید اورجنید خان ڈاہا سائنٹفک آفیسر نے شرکت کی۔ فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا آئندہ چوتھا اجلاس 16مئی کو ادارہ ہذا میں منعقد ہوگا۔











