الزام خان اپنے کیسز میں تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے،مختلف عدالتوں میں تکنیکی بنیادوں پر تاخیری حربے استعمال کرکے راہ فرار حاصل کی جاتی ہے، عطاء تارڑ 

23

اسلام آباد،14جون  (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قانونی امور عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ الزام خان اپنے کیسز میں تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے، اگر پہلے دن سے عدالتوں اور دیگر اداروں کے سامنے پیش ہو کر جواب دیا جاتا تو معاملات بالکل مختلف ہوتے۔

بدھ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطاء تارڑ نے کہا کہ آج الزام خان کا توشہ خانہ کیس اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے روبرو تھا، آج بھی کیس میں تاخیری حربے استعمال کئے گئے بجائے اس کے کہ جواب دیا جاتا کہ چوری کیوں کی، کتنے کی کی ، یہ روایت ہے کہ الزام خان کے جتنے کیسز ہوتے ہیں اس میں دائر ہ اختیار کو چیلنج کیا جاتا ہے اس کے ساتھ بجائے اس کے کہ میرٹ پر دلائل دیئے جائیں، کیس کی میرٹ پر بحث کی جائے، تمام تر زور اس بات پر ہوتا ہے کہ آپ کو یہ حق نہیں ہے، آپ فلاں تکنیکی بنیاد پریہ نہیں پوچھ سکتے کہ آپ نے یہ چوری کی یا نہیں کی، یہی وجہ ہے کہ فارن فنڈنگ کے کیس کو اپنے منطقی انجام تک پہنچنے میں 6 سال لگے۔

 انہوں نے کہا کہ مختلف عدالتوں میں تکنیکی بنیادوں پر تاخیری حربے استعمال کرکے راہ فرار حاصل کی جاتی ہے، اگر پہلے دن سے عدالتوں اور تفتیشی اداروں کے سامنے پیش ہو کر جواب دیا جاتا تو معاملات بالکل اور طرح ہوتے لیکن افسوس یہ ہے کہ توشہ خانہ کیس میں ان کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں تو آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں مختلف اداروں کے دائرہ اختیار کو بنیاد بنا کر تاخیری حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ ہم بطور شکایت کنندہ یہ چاہتے ہیں کہ ہائی کورٹ کو یہ کیس میرٹ پر سننا چاہئے تاکہ توشہ خانہ والا کیس اپنے منطقی انجام کو پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ الزام خان کو اس چیز کا پتہ ہے کہ اس کیس میں ان کو سزا ہو سکتی ہے اس لئے وہ دائرہ اختیار پر آ گئے ہیں۔

عطاء تارڑ نے کہا کہ مجھے سوشل میڈیا سے پتہ چلا کہ الزام خان نے مجھے 10 ارب روپے کے ہرجانے کا نوٹس بھیجا ہے کہ میں نے ان پر ایڈووکیٹ عبدالرزاق شرکے قتل کا الزام لگایا ہے، وہ مجھے ایک وکیل کے قتل کے حوالے سے ہرجانے کا نوٹس بھیج رہے ہیں جو کہ مجھے ابھی تک ملا نہیں ہے اور اس کی حیثیت ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہے، آپ بے شک مجھے ایسے 10 نوٹس بھیج دیں میں ڈرنے والا نہیں ہوں۔

 انہوں نے کہا کہ سرکاری محکموں اور پرائیویٹ کمپنی کی ری ٹینر شپ سب وکیلوں کا حق ہوتا ہے لیکن سلمان ابوذر نیازی نے نہ صرف بزدار حکومت میں اپنے والد کو پنجاب سروس کمیشن کا ممبر لگوایا بلکہ اپنے سسرکی وجہ سے اداروں کی ری ٹینر شپ بھی حاصل کی، الزام خان ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں، ان کو ایسے وکلاء کی حمایت حاصل ہے جو اقرباء پروری کے ذریعے اپنے سسر کی پوزیشن پر فائدہ اٹھاتے ہیں لہٰذا یہ نوٹس جب بھی ملا تو ردی کی ٹوکری میں جائے گا کیونکہ عبدالرزاق شر کے کیس میں ان کے بیٹے نے الزام خان کو نامزد کیا ہے کیونکہ ان کے والد عمران خان کے خلاف سنگین غداری کے مقدمہ کے درخواست گزار تھے اور اس کیس کی پیروی بھی کر رہے تھے۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی طرف سے اس کیس کیلئے جے آئی ٹی بنا دی گئی ہے چونکہ اس ایف آئی آر میں الزام خان کو نامزد کیا گیا ہے تو اس قتل کا جواب الزام خان کو دینا ہی پڑے گا، اس جے آئی ٹی کے علاوہ ایک دوسری جے آئی ٹی میں الزام خان سے جب ان پر قاتلانہ حملے کے حوالے سے ثبوت مانگا گیا تو کہنے لگے کہ میں نے کسی سے سنا تھا اور میرے پاس ثبوت نہیں ہے، الزام خان ایک جھوٹا، منافق انسان ہے جس نے اپنی انا اور ذاتی مفاد کیلئے نہ صرف پاکستان کی سالمیت کو دائو پر لگایا بلکہ اداروں پر حملے، دہشت گردی اور شرپسندی کو فروغ دیا، جلسوں میں بار بار قاتلانہ حملوں کا الزام وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور جنرل فیصل نصیر پر لگاتے رہے، اس ساری کارروائی میں معظم گوندل نامی شخص الزام خان کے گارڈ کی گولی سے جاں بحق ہوا تھا جو بعد ازاں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی ثابت ہوا۔ آپ کو عبدالرزاق شر قتل کی جے آئی ٹی میں جواب دینا پڑے گا کیونکہ آپ اس میں ان کے خاندان کی جانب سے نامزد ہیں، پہلے آپ جلسوں میں سائفر دکھا دکھا کر عوام کو گمراہ کرتے رہے اور اب باہر کے ممالک میں اشتہاری وینز کے ذریعے پاکستان کی سبکی کرا رہے ہیں جن پر لکھا ہوتا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ پہلے آپ جناح ہائوس، چاغی ماڈل، ریڈیو پاکستان اور دیگر اہم تنصیبات پر حملہ آور ہوتے ہیں اور پھر اشتہاری مہم کے ذریعے باہر کے ممالک سے مدد مانگ رہے ہیں، کیپٹل ہلز پر بھی ایک سیاسی جماعت کے ورکر نے حملہ کیا تھا تو میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ان کو سزائیں نہیں ہوئیں؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پاکستان کے اداروں، عوام اور پولیس والوں پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کیلئے جیل کے دروازے کھول دیئے جائیں اور ان کو آزاد چھوڑ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں کسی بھی قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی، جیلوں میں ہیومن رائٹس اور دیگر اداروں کو وزٹ کرائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام افراد سائنسی بنیادوں پر شناخت کرکے گرفتار کئے گئے ہیں اور کسی بھی بے گناہ کو یا جلائو، گھیرائو میں ملوث نہ ہونے والے افراد کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ باہر کے ممالک میں ان جھوٹی تشہیری مہم میں ملوث ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی اور ہم آپ کو 9 مئی کے واقعہ پر سیاست نہیں کرنے دیں گے، آپ کو توشہ خانہ اور دیگر مقدمات کا جواب دینا ہو گا کیونکہ آپ کے ہاتھ نہ صرف کرپشن میں رنگے ہوئے ہیں بلکہ خون سے بھی رنگے ہوئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تفتیش کا عمل جاری ہے، حاشر درانی نامی شخص نے بیان دیا ہے کہ یہ ساری سازش زمان پارک میں کی گئی ہے اور کسی بھی شخص نے یہ کام اپنے تیئں نہیں کیا۔