اسلام آباد۔9جون (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ معیشت کی بہتری کیلئے کچھ اہم فیصلے کرنا پڑے ، حکومت نے سیاست نہیں ریاست بچائو پالیسی پر عمل کیا، ملکی معیشت کی بحالی کو ترجیح دی۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومت کا دوسرا بجٹ پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے جس پر خدا کا شکر گزار ہوں، معیشت کی بہتری کیلئے کچھ اہم فیصلے کرنا پڑے جو ضروری تھے۔ انہوں نے کہا کہ سخت فیصلوں سے عوام کو مہنگائی اور غربت میں اضافہ کا سامنا کرنا پڑا، روپے کی قدر میں کمی سے معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، حکومت نے سیاست نہیں ریاست بچائو پالیسی پر عمل کیا، اپنی سیاسی ساکھ کی قربانی دے کر ملکی معیشت کی بحالی کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں 1947 سے لے کر 2018 کے مقابلہ میں ان کے چار سالوں میں سب سے زیادہ قرضہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 24-2023 کے بجٹ کے اعداد و شمار پیش کرنے سے پہلے 2017 میں نواز شریف کی حکومت اور 2022 میں پی ٹی آئی کی نااہل حکومت کے بجٹ کا تقابلی جائزہ پیش کروں گا۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 17-2016 میں پاکستانی معیشت کی شرح نمو 6.1 فیصد تک پہنچ چکی تھی، مہنگائی 4 فیصد تھی، غذائی اشیا کی مہنگائی صرف 2 فیصد تھی، پالیسی ریٹ ساڑھے 5 فیصد، اسٹاک ایکسچینج جنوبی ایشیا میں نمبر ون اور پوری دنیا میں پانچویں نمبر پر تھی۔











