وفاقی وزیر صنعت و پیداوار  مرتضیٰ محمود نے ایس ایم ایز کیلئے موجودہ انکم ٹیکس نظام پر مطالعہ کا آغاز کر دیا

19

اسلام آباد،1جون  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار، سید مرتضی محمود نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز )کے لیے موجودہ انکم ٹیکس نظام کے بارے میں مطالعہ کا آغاز کیا۔یہ مطالعہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے انٹرپرائز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا ) نے کیا، جو وزارت صنعت و پیداوار کا ایک ذیلی محکمہ ہے،  ایس ایم ایز کے  مطالعاتی جائزے کا عنوان ” ایس ایم ایز کے  لئے  تحقیق، ریگولیٹری مشاورت اور  معاونت”  تھا۔

اس تحقیق کے آغاز کے لیے جمعرات کو یہاں ایک مقامی ہوٹل میں تقریب منعقد کی گئی جس میں تاجر برادری اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو، وزارت صنعت و پیداوار کے حکام نے شرکت کی۔اس موقع پر سمیڈا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فرحان عزیز نے وفاقی وزیر کو سٹڈی کی رپورٹ پیش کی۔وفاقی وزیر نے ان چیلنجوں کو اجاگر کرنے میں   سمیڈا کے کردار کا اعتراف  کیا جن کا اس وقت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں  کو سامنا ہے  اور ثبوت پر مبنی پالیسی تجاویز کے ذریعے ان کی ترقی  پر زور دیا ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری برائے وزارت صنعت و پیداوار اور سیکرٹری خواتین کی پارلیمانی کاکس ڈاکٹر سیدہ شاہدہ رحمانی نے ایس ایم ایز کو درپیش  چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا اور تجویز پیش کی کہ ان کے مسائل کو ون ونڈو آپریشن کے ذریعے حل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو ایس ایم ایز کے ذریعے اپنے کاروبار چلانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر سہولیات فراہم کی جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے بلوں کی بلند شرحیں ایس ایم ایز کی ترقی میں رکاوٹ ہیں اور ان کے کاروبار کو آسان بنانے کے لیے ٹیکسوں کی شرح میں کمی کی سفارش کرتی  ہوں ۔

اس سے قبل اپنے ابتدائی کلمات میں سمیڈا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فرحان عزیز نے کہا کہ قومی ایس ایم ای پالیسی 1921 میں حکومت کی طرف سے منظور کی گئی تھی جس میں نہ صرف ایس ایم ایز کی یکساں تعریف کو اپنایا گیا تھا بلکہ ریگولیٹری اور ٹیکس سے متعلق بہت سی اصلاحات کی سفارش کی گئی تھی تاہم ٹیکسیشن نظام سے متعلق چیلنجز پیچیدہ تھے ۔غیر رسمی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ہدفی کوششوں اور تعمیل کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے ۔

 تقریب سے خطاب کرنے والوں میں لاہور چیمبر کے صدر کاشف انور، ممبر پرائیویٹ سیکٹر ڈویلپمنٹ، پلاننگ کمیشن عاصم سعید ،سی ای او کار انداز پاکستان وقاص الحسن، ، اورٹیکس لیڈ ریونیو موبلائزیشن، سرمایہ کاری اور تجارت  ڈاکٹر حامد عتیق سرور شامل تھے۔