کامسٹیک کا مائکروآرگنزمز کی انفیکشن سے متعلقہ خصوصیات پر بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد

22

اسلام آباد، 5 جون(اے پی پی ): مائکروآرگنزمز کی انفیکشن سے متعلقہ خصوصیات پر ایک روزہ بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد پیر کو یہاں کامسٹیک کے زیر اہتمام سویڈن کے کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔

سیمینار سے خطاب میں پروفیسر ڈاکٹرعوتے روملنگ ، شعبہ مائیکرو بایولوجی، ٹیومر اور سیل بیالوجی، کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ نے کہا کہ متعدی بیماریاں ترقی پذیر اور صنعتی ممالک میں بیماری اوراموات کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طبی انفیکشن بتدریج غیر فعالیت کا باعث بنتے ہیں، متعدی بیماریوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انسانی مائکروبیل انفیکشنز میں سے 80 فیصد تک بائیو فلم بنانے والے بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتے ہیں اور بائیو فلموں میں موجود جرثومے اینٹی بائیوٹکس اور مدافعتی ردعمل کے اثر سے محفوظ رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ طرز زندگی، صنعتی عمل، تبدیل شدہ مائیکروبائیوم، اور مدافعتی حیثیت میں تبدیلی کی وجہ سے بیماری کا باعث بننے والے نئے پیتھوجینز ابھر رہے ہیں۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں فیکلٹی آف کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر شازیہ انجم نے کہا کہ تحقیق کا یہ شعبہ بہت اہم ہے، کیونکہ جرثومے انسان کے دشمن ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ متعدی بیماریوں سے لڑنے کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

 انہوں نے کامسٹیک کے صحت کی استعداد کار میں اضافے کے اقدامات اور سیمینار کو سراہا جہاں اس میدان سے تعلق رکھنے والے محققین کو بیماریوں سے لڑنے کے لیے تعاون کو فروغ دینے ، سیکھنے اور نیٹ ورک بنانے کے مواقع میسر ہوں گے۔

کوآرڈینیٹر جنرل  کامسٹیک، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے سیمینار کے شرکاء کا خیرمقدم اور شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ متعدی بیماریاں انسانی صحت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ٹیکنالوجی جیسے تحقیق کے دیگر شعبوں پر بہت زیادہ خرچ کرتے ہیں لیکن ہم شروع سے ہی انسان کے بڑے دشمن سے بے خبر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فارماسیوٹیکل انڈسٹری اینٹی بائیوٹکس کی ترقی میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتی، ماہرین تعلیم کو اس مسئلے کے حل کے لیے متعدی امراض کی تحقیق پر توجہ دینی چاہیے۔

 پروفیسر چودھری نے متعدی امراض کی تحقیق کے شعبے میں باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیمینار مالیکیولر سطح پر انفیکشن کو سمجھنے اور محققین کو نیٹ ورکنگ اورباہمی تعاون کے فروغ کے مواقع فراہم کرنے کے مقصد کے ساتھ منعقد کیا گیا ہے۔

سیمینار میں یمن کے سفیر اور قطر اور ازبکستان کے سفارت کاروں نے بھی شرکت کی۔ سیمینار میں قومی اور بین الاقوامی محققین کی ایک بڑی تعداد میں ذاتی اور آن لائن شریک ہوئے ۔ بین الاقوامی اور قومی مقررین نے متعدی بیماریوں کے مختلف پہلوؤں پر دس لیکچر دیئے۔ ہر لیکچر کے بعد سوال و جواب کے سیشن کا انعقاد کیا گیا۔