ملتان؛ نگراں وزیراعلیٰ محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس، کپاس کی پیداوار اور زرعی ادویات کی فراہمی کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا گیا

29

ملتان،24 جولائی (اے پی پی):نگراں وزیراعلی پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ ملتان میں اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں کپاس کی پیداوار اور زرعی ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کیڑوں سے کپاس کو بچانے کیلئے حفاظتی اقدامات پر غور کیا گیا۔

 بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں کئی برس بعد کپاس کے زیر کاشت رقبے میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور تقریباً 50 لاکھ ایکڑ رقبے پر کپاس کاشت کی گئی ہے۔ وزیراعلی محسن نقوی نے کپاس کے زیر کاشت رقبے میں اضافے پر کاشتکاروں، محکمہ زراعت اور انتظامیہ کی انتھک محنت کو سراہا اور مبارکباد دی۔

 نگران وزیراعلی محسن نقوی نے کہا کہ کپاس 8500 روپے من سے کسی صورت کم پر فروخت نہیں ہونی چاہیئے۔ انہوں نے تمام کمشنرز کو کپاس کی فروخت مقررہ نرخ پر یقینی بنانے کا ٹاسک دیتے ہوئے کہا کہ کاشتکاروں کو ان کی محنت کا پورا معاوضہ دلایا جائے گا۔کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ افسران فیلڈ وزٹ جاری رکھیں۔

اجلاس میں  سیکرٹری زراعت نے کپاس کی موجودہ فصل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔  صدر پاکستان کسان اتحاد خالد کھوکھر نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب محسن نقوی کے کپاس کی ریکارڈ کاشت کیلئے اقدامات قابل تحسین ہیں۔  31 سال بعد اعلی معیار کپاس کی فصل دیکھنے کو ملی جس کا کریڈٹ وزیراعلی محسن نقوی اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے۔

چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب، ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب،سیکرٹری زراعت، کمشنر ملتان ڈویژن، آر پی او ملتان،سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب، میاں نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان کے پروفیسر ڈاکٹر شفقت سعید، ڈی جی پلانٹ پروٹیکشن کراچی اللہ دتہ عابد اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ صوبائی وزیر اطلااعات عامر میر، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ، سیکرٹریز آبپاشی، لائیوسٹاک، خوراک، اطلاعات، خزانہ، تمام ڈویژنل کمشنرز و آر پی اوز،  چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ، شاہد ستار، چیئرمین پاکستان کارپ پروڈکشن ایسوسی ایشن رف الرحمن، چیئرمین کارپ لائف پاکستان عاطف کمال، ماہر پیسٹی سائیڈ سعد اکبر، وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد اور متعلقہ حکام ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔