آئی ایم ایف سے معاہدہ پورا نہ کرتے تو ملک ڈیفالٹ کرجاتا،وفاقی وزیر داخلہ

20

فیصل آباد ،06 اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ و صوبائی صدرپاکستان مسلم لیگ(ن) پنجاب رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ پورا نہ کرتے تو ملک ڈیفالٹ کرجاتا،پہلے مسلم لیگ(ن) نے ملک کو بحرانوں سے نکالااسی طرح آپ کے اعتماد اور عوامی مینڈیٹ سے دوبارہ خدمت کا موقع ملنے پر میاں نواز شریف کی قیادت میں آئندہ بھی تمام بحرانوں سے نکالے گی اور مہنگائی کے خاتمہ سمیت ملک و قوم کو مثالی ترقی و خوشحالی کی راہ پر ڈالاجائے گا۔

ان خیالات کا اخیالات کا اظہار انہوں  نے  اتوار کی رات سدھار پائی پاس اور امین پور سب ڈویژن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرفیسکوکے چیئرمین ملک تحسین اعوان،چیف ایگزیکٹوفیسکو انجینئر بشیر احمد،فیسکوافسران،سابق ایم پی اے میاں اجمل آصف، ظفر اقبال ناگرہ، سیاسی و سماجی شخصیات،مسلم لیگ(ن) کے عہدیداران و کارکنان اوراہل علاقہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ کا طریقہ ہی خدمت کا ہے،جولوگ سوشل میڈیا کا پروپیگنڈا دیکھ متاثر ہوتے ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ مسلم لیگ(ن) نے پاکستان کو دہشت گردی سے نکالا۔انہوں نے کہا کہ1990 میں اسٹیبلشمنٹ کے گاڈ فادر غلام اسحاق خان نے ملک کو ڈی ٹریک کیا،اس وقت ملک میں ترقی ہو رہی تھی،امریکہ کے صدر نے ایٹمی دھماکے روکنے کیلئے پانچ ٹیلی فون کئے اور پانچ ارب ڈالر دینے کی پیشکش کی لیکن نواز شریف نے ملکی مفاد میں اسے ٹھکرادیا۔انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کی قیادت میں پاکستان نے امریکہ کے پانچ ٹیلی فونزکے نتیجے میں چھ ایٹمی دھماکے کئے، اگر پاکستان ایٹمی دھماکے نہ کرتا تو ہندوستان ہمیں کھا جاتا،اس وقت لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی کے نام سے لوگ نا واقف تھے،اس وقت دنیا کہہ رہی تھی کہ پاکستان ایشین ٹائیگر بننے جا رہا ہے،اس وقت ہم واہگہ بارڈرکے راستے ہندوستان کو بجلی بیچنے کی پوزیشن میں تھے،اس کے بعد جو اکتوبر میں ہوا آپ نے دیکھا۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ آپ نے اس بحرانی کیفیت میں دوبارہ مسلم لیگ(ن) پر اعتماد کیا،سال2011اور2012 کی دہشت گردی آپ کے سامنے ہے پھر2013 میں آپ نے اعتماد کا اظہار کیا اس کے بعد ہم نے دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ کو ختم کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ پورا نہ کرتے تو ملک ڈیفالٹ ہو جاتا، دوست ممالک سعودی عرب اور چین نے بھی کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا جائے، آج جو مہنگائی ہے وہ آئی ایم ایف سے معاہدہ کی وجہ سے ہے،میں یہ دعوے سے کہتا ہوں کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں شرح نمو 6.2 پر تھی جو کہ7 تک پہنچ سکتی تھی،اس وقت کیوں بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے معاملے پر نواز شریف کو نکالا گیا،اس وقت ترقی کرتے ملک کوکیوں روکا گیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے سب کو کہا یہ چور ہیں،اس نے چار سال میں عوام کیلئے کچھ بھی نہیں کیاجبکہ ہم نے موٹر وے کا جال بچھایا،موٹر وے لاہور تا ملتان ہم نے بنائی، فیصل آباد میں چلڈرن ہسپتال ہم نے بنایا،ایف آئی سی پاکستان مسلم لیگ (ن)نے بنایا،ایف آئی سی سے انہوں نے  میری تختی ہٹا کر اپنی لگائی، انہوں نے بچوں کو گمراہ کیا،نو مئی کو اس نے شہداکی یادگاروں کی بے حرمتی کی، اس نے ملک کو ڈیفالٹ پر لا کر چھوڑا،ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا،اس نے کہا کہ  پچیس مئی کو آ کر اسلام آباد کو بند کردوں گا،میں نے کہا تم آؤ تمھیں بھاگنے کا راستہ نہیں ملے گا، پھر ہم نے اسے اسلام آباد سے بھگایا،یہ نیازی اسمبلیاں توڑ کر کہتا الیکشن کرواؤ،آج پھر ملک بحران کا شکار ہے،2013 میں لوڈ شیڈنگ اوردہشت گردی نے ملک کو جکڑ لیا تھا،تاجر پاکستان آنے کو تیار نہیں تھے،لاہور میں ایک مارکیٹ میں دھماکہ ہوا سو افراد شہید ہوئے لیکن پھر ہم نے اس سے نجات کا بیڑا اٹھایا اور جو کہا وہ کرکے دکھایا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آج ہمیں مہنگائی کا مسئلہ درپیش ہے،غریب آدمی کا برا حال ہے لیکن ہم اگلے الیکشن میں آپ کے ووٹ سے کامیاب ہوکر اس مہنگائی کا خاتمہ یقینی بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ملک کا بھٹہ بٹھایا مگر آج وہ کیفرکردار تک پہنچ گیا  ہے، اس کے خلاف فیصلہ ہم نے نہیں عدالت نے دیا ہے اسلئے اگر انہیں کوئی اعتراض ہے تو وہ بڑی عدالتوں میں جاکر خود کو بیگناہ ثابت کرسکتا ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ آپ کے ووٹ سے دوبارہ مسلم لیگ(ن) ملک کا انتظام سنبھالے گی اور31 مئی 2018کوجو ترقی کا سفر رکااسے وہیں سے شروع کریں گے۔انہوں نے کہا کہ نیازی نے آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کیا اسے ہمیں پورا کرنا پڑ رہا ہے،دوست ممالک نے بھی کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ کریں،اگر آئی ایم ایف سے معاہدہ نہ کرتے تو ملک ڈیفالٹ ہو جاتا، بہت مجبور ہوکر آئی ایم ایف کی شرائط جن میں پٹرول،بجلی کی قیمتیں بڑھاناشامل ہیں پوری کرناپڑیں،یہی وجہ ہے کہ آئی آیم کی شرائط پوری کرنے کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے متعلقہ جیل حکام سے کہا ہے کہ اسے جیل میں ہر سہولت دی جائے سوائے ممنوع چیزوں کے۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ ہم اس ایک سال کے مختصر عرصہ میں آپ کی صحیح خدمت نہیں کر سکے لیکن اس دوران جتنا زیادہ سے زیادہ ممکن ہوسکا عوام کوریلیف دینے اور ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم آپ کی حمایت سے دوبارہ مرکز اور پنجاب میں اپنی حکومت بنائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ2018والا پرجیکٹ لانے والے بھی اب پچھتا رہے ہیں،آج وہ اپنا کیا صاف کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حلقہ کو تعمیر و ترقی کے کاموں کے حوالے سے مثالی بنادیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہاں تقریب میں موجود تمام بھائیوں کا بہترین استقبال کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ پھاٹک آپ کا دیرینہ مطالبہ تھاجسے پورا کردیا گیا ہے کیونکہ انہیں مقامی نمائندوں نے بتایا کہ کراڑی کلاں کا سب سے بڑا مسئلہ ریلوے پھاٹک کا ہے۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی ہمیشہ حلقے میں خدمت کے جذبے کے ساتھ کام کئے ہیں اور آئندہ بھی اس سے بہتر انداز میں کام کریں گے اور عوام پہلے ایک دو سالوں میں ہی خود یہ کہیں گے کہ اللہ کے فضل سے اب ان کا کوئی مسئلہ باقی نہیں رہا۔