کوئٹہ،05 اگست (اے پی پی):گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے کہا ہے کہ تمام سرکاری اداروں میں احتساب، شفافیت اور ذمہ داری کی پاسداری لازم ہے جس کیلئے مضبوط چیک اینڈ بیلنس کے میکنزم کا ہونا ضروری ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں فورم آف پاکستان محتسب (ایف پی او) کے زیرِ اہتمام ایک روزہ سیمینار بعنوان ” سرکاری اداروں میں بدانتظامی کے خاتمے کے حوالے سے محتسب کا کردار ” کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی محتسب برائے ٹیکس ڈاکٹر محمود آصف جاہ ، وفاقی محتسب بینکنگ سراج الدین عزیز، وفاقی محتسب آزاد جموں کشمیر چوہدری محمد نعیم، صوبائی محتسب بلوچستان نذر بلوچ اور ریجنل ڈائریکٹر غلام سرور بروہی سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شریک تھے۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ انصاف کی فراہمی میں ہراسمینٹ کی تشریح سے متعلق ابہام پایا جاتا ہے جو کہ بحث طلب اور تحقیق طلب ہے قانونی ماہرین کی ذمہ داری ہے کہ ہراسمنٹ کی واضح تشریح کریں تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں ۔انہوں نے کہا کہ خواتین ہماری کل آبادی کا نصف سے زائد حصہ ہے جن کی تمام سرگرمیوں میں شرکت اور شمولیت لازمی ہے۔
صوبائی محتسب بلوچستان نذر بلوچ اور ان کی پوری ٹیم کی انتھک کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ادارے کے فیصلے انصاف پر مبنی ہوتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ محتسب کا ادارہ معاشرے کے غریب ترین اور کمزور ترین افراد کو سستا انصاف فراہم کرنے کا اہم ترین ذریعہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت اور افادیت سے انکار ممکن نہیں ہے لہٰذا اداروں اور محکموں کو کمپیوٹرائز ڈکیے بغیر اچھی طرز حکمرانی کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔
سیشن کے اختتام پر گورنر بلوچستان نے فورم آف پاکستان محتسبین کی جانب سے منعقدہ سیمینار کے شرکاء اور منتظمین میں یادگاری شیلڈز اور قالین تقسیم کیے۔











