اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نگران  وزیر اعظم   کے ہمراہ وزیر خارجہ اور سیکرٹری خارجہ وفد میں شامل ہیں؛ ترجمان دفتر خارجہ

25

اسلام آباد،20ستمبر  (اے پی پی):دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے کہ نگران  وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں ہیں، نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی اور سیکرٹری خارجہ محمد سائرس سجاد قاضی ان کے ہمراہ وفد میں شامل ہیں۔

ترجمان نے بدھ کو یہاں پریس بریفنگ میں کہا کہ وزیراعظم نے گزشتہ روز ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی اور عالمی ترقی کے اقدام اور پائیدار ترقی کے اہداف بارے سربراہی اجلاس کے لیڈرز ڈائیلاگ پر اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی، پائیدار ترقی کے اہداف سمٹ لیڈرز ڈائیلاگ میں وزیر اعظم نے خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں درپیش چیلنجوں پر روشنی ڈالی،انہوں نے موسمیاتی انصاف پر زور دیا جس میں کلائمیٹ فنانس میں سالانہ 100 ارب ڈالر سے زیادہ کے وعدے کی تکمیل، اس رقم کا نصف موسمیاتی موافقت کے لیے مختص کرنا اور ”لاس اینڈ ڈمیج“ فنڈ کا فوری آغاز شامل ہے۔

ترجمان نے کہا کہ وزیر خارجہ نے نیویارک میں کئی کثیر الجہتی پروگرامز میں شرکت کی جس میں مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے وزراء کی سطح کا اجلاس اور او آئی سی کی چھ رکنی کمیٹی برائے فلسطین کا اجلاس بھی شامل ہے۔ اس موقع پر وزیر خارجہ نے بیلاروس، کیوبا، مالٹا، ناروے، ہالینڈ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزراء خارجہ سمیت اپنے متعدد ہم منصبوں سے دو طرفہ ملاقاتیں کیں، انہوں نے ایشیا سوسائٹی میں خطاب بھی کیا۔

 ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ او آئی سی کمیٹی کے اجلاس میں وزیر خارجہ نے مسئلہ فلسطین کے لیے دو ریاستی حل کے پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کیا۔

ترجمان نے کہا کہ ایشیا سوسائٹی میں اپنے خطاب کے دوران وزیر خارجہ نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے عزم پر زور دیا جس کی جڑیں باہمی طور پر فائدہ مند تعاون، پرامن بقائے باہمی، باہمی احترام اور مشترکہ اقتصادی ترقی پر قائم ہیں۔ انہوں نے ایک پرامن ہمسائیگی کے لیے پاکستان کے وژن کا اشتراک کیا، جس میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنا، افغانستان میں امن و استحکام اور پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ تنازعات بالخصوص جموں و کشمیر کے تنازعہ کا حل شامل ہے۔