لاہور -10اکتوبر (اے پی پی): نگران وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے انسانی حقوق مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ حکومت قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے، قیدیوں کو رہائی کے بعد عزت دار شہری بنا کر مثبت معاشرتی تبدیلی لائی جا سکتی ہے ،دین اسلام انسانیت کی فلاح کا مذہب ہے، اسلام میں قیدیوں کے بھی حقوق ہیں، بھارت نے کشمیر کو کشمیریوں کے لیے جیل بنا دیا ہے، قیدیوں کو جنیوا کنونشن کے تحت قیدیوں کو حقوقِ فراہم کرنے اور ان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ایک ہفتے کے اندر پروگرام لا رہے ہیں- انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کے روز کوٹ لکھپت جیل کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا- معاون خصوصی نے کہا کہ قیدیوں کو درپیش مسائل کو مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے ،حکومت قیدیوں کی فلاح و بہبود خاص کر قیدیوں کیے چھوٹے بچوں کے لیے لاجا کے ساتھ ایک پروگرام تشکیل دے رہی ہے ، خواتین قیدیوں کے پیدا ہونے والے ان بچوں نے تو جرم نہیں کیا، اس لیے ہماری کوشش ہے کہ ان بچوں کو معاشرے میں مثبت بنایا جا سکے، اس سلسلے میں اصلاحات لا رہے ہیں- معاون خصوصی نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے تحت جیلوں کے مسائل دیکھوں گی،جیلوں میں قید لوگ میرے دل کے قریب ہیں،یاسین صاحب بھی اسوقت جیل میں ہیں،میں نے مقبوضہ کشمیر کی جیلیں بھی دیکھی ہیں، میرے شوہر کئی سالوں سے ڈیتھ سیل میں قید ہیں ،یاسین صاحب کو وکیل، فون، کسی چیز کی اجازت نہیں،صرف فیصلے سنانے کے وقت انکو پیش کیا جاتا ہے، ہمیں ان سے ملاقات کی بھی اجازت نہیں ہوتی ہے ، بھارت نے پورے کشمیر کو ایک جیل بنا دیا،سیاسی قیدیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں لیکن بھارتی حکومت کو ان حقوق کا کوئی خیال نہیں ہے -معاون خصوصی نے کہا کہ جب تک میں نگران حکومت میں ہوں اور مجھے یہ زمہ داری سونپی گئی ہے ،اس مختصر سے عرصے میں جیلوں میں مرد خواتین کے حقوق سمیت قیدیوں کے بچوں بچوں کے حالات میں خود دیکھوں گی، کیوں کہ ہم لوگ جیلوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے سب سے زیادہ متاثرہ ہیں اور میں سمجھتی ہوں کہ میں اس کو بہتر انداز سے دیکھ سکوں گی،جیلوں میں اصلاحات کے لیے ہیومن رائٹس کے لوگ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے-انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ قیدیوں کو معیاری کھانے کی فراہمی کے لئے بھی خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، اس حوالے سے جہاں ایک جانب کھانے کے معیار کے کو بہتر بنانے کے لئے کوکنگ آئل ، کھی ، آٹے ، دالیں ، گوشت اور چکن کے معیار کو بہتر بنایا گیا وہیں کھانے کے مینیو میں بہتری لائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ قیدیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کے لیے ہم سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر اصلاحات لا رہے ہیں ، اس کے لیے مخیر حضرات کو آگے آنا ہو گا- انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے جیل میں کھانے کی سہولیات کے ساتھ معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ، قیدیوں کا روازنہ کی بنیاد پر چیک اپ کیا جا تا ہے ،جیل میں صفائی ستھرائی کے اقداما ت پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے اس کے ساتھ ساتھ قیدیوں کی تعلیم و تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جس کے لیے ہم جلد اقدامات کر رہے ہیں اور پروگرام لا رہے ہیں- انہوں نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند قیدیوں کو روایتی اور فنی تعلیم کی سہولتوں کو آسان بنایا جائے گا تاکہ وہ معاشرے میں اچھے شہری بن سکیں- انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی سہولیات کیساتھ ساتھ جیلوں میں قیدیوں کو مختلف ہنر بھی سکھائے جا رہے ہیں تاکہ وہ رہائی پانے کے بعد با عزت روزگار کما سکیں، اس کی ساتھ ساتھ جیلوں میں مخیر حضرات کے تعاون سے مختلف فلاحی کام بھی شروع کر یں گے-ایک سوال کے جواب میں معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان کی جیلوں میں سب سے بڑا مسئلہ اضافی بوجھ ہے دور دراز سے قیدی لا کر قید میں رکھے جاتے ہیں، ان کو معیاری کھانے، صحت، وکیشنل اسکلز سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے پروپزل تیار کررہے ہیں تاکہ ان کے مسائل کو کم کیا جا سکے- ایک اور سوال کے جواب میں مشعال ملک نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ اور فلسطین کا مسئلہ حق خودارادیت کا ہے، بھارتی حکومت کی طرح اسرائیل کی حکومت بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہی ہے ،ہر مذہب امن سکھاتا ہے مگر مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے،اسرائیل نے غزا پر قبضہ کیا اور ایک غاضب حکومت ٹھہری، اسی طرح بھارت میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کوکو کشمیریوں سے چھیننے کی ناکام کوشش کر رہا ہے ،کئی دہائیوں سے مودی اور نتین یاہو میں کوئی فرق نہیں کیوں کہ بھارت اور اسرائیل دونوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہے ہیں- مشعال ملک نے کہا کہ وزیراعظم سے کہوں گی غزا میں مقیم افراد کی مدد کی جائے،غزا میں مقیم افراد تک کھانا پہنچائیں گے، ضروری اشیا پہنچائیں گے- انہوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں سب سے پرانا حل طلب مسئلہ ہے اس کے حل کے بغیر دنیا میں امن کا قیام ایک خواب ہے-مشعال ملک نے کہا کہ جس طرح بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہے اسی طرح اسرائیل بھی فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے ، مقبوضہ کشمیر کی طرح فلسطین میں بھی مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے، انہوں نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین تنازعہ کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں تاکہ دنیا میں امن قائم ہو سکے-انہوں نے کہا کہ مودی کی حکومت اقلیت کو ٹارگٹ کررہی ہے، بھارت دنیا بھر میں دہشتگردی کا کینسر پھیلارہا ہے،جو کشمیر کی آزادی کی تحریک چل رہی ہے اس کو دبانے کے لیے ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا جاتا ہے-مشعال ملک نے کہا کہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے ، مودی حکومت پوری دنیا کا امن تباہی کرنے پر تلی ہوئی, وہ دن دور نہیں جب فلسطین اور کشمیر آزاد ہوں گے – ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے جتنے ظلم ڈھائے حالیہ جنگ اس کا فطری ردعمل ہے،دنیا کو امن کی طرف لے جانا ہے تو فلسطین اور کشمیر کو آزادی دینا ہوگی ،تاکہ وہ عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں-











