حیدرآباد؛ سندھ زرعی یونیورسٹی کی زیرمیزبانی آر ڈی ایف اور ڈبلیو ایچ ایچ کے اشتراک سے خوراک و زراعت سے متعلق مشاورتی سیمینار

41

حیدر آباد اکتوبر، 19 (اے پی پی): سندھ زرعی یونیورسٹی کی زیرمیزبانی اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فاﺅنڈیشن (آر ڈی ایف) اور ویلت ہنگرہائلف (ڈبلیو ایچ ایچ) کے اشتراک سے خوراک و زراعت سے متعلق مشاورتی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح مری نے کہا گزشتہ تیس برسوں سے زرعی پیداوار میں نمایاں ترقی نہیں ہوئی اس لئے ہمیں شہری زراعت اور پانی کے مناسب استعمال سے زیادہ پیداوار سے متعلق ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہوگا۔

 انہوں نے کہا کہ مستقبل میں پانی کی امکانی کمی اور بڑھتی ہوئی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید زرعی ٹیکنالوجی کو عام کسان تک رسائی لازم ہے،سندھ آبادگار بورڈ کے رہنما سید ندیم شاہ نے کہا کہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ورٹیکل پلانٹنگ اور خوراک کو محفوظ کیا جاتا ہے جبکہ چین میں ہر شخص اپنی ضرورت کی سبزیاں اپنے گھروں میں اگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں خاص طور پر سرسبز زمینی وسائل کالونیوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔

فیکلٹی آف ایگریکلچرل انجینئرنگ کے ڈین ڈاکٹر الطاف سیال نے کہا سندھ کے لاڑ کے علاقوں میں پہلے سے موجود کھائیوں کو برساتی اور سیلابی پانی کو محفوظ کرنے کیلئے متبادل اسٹوریج میں تبدیل کیا جائے۔

 انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایک کلو گندم کی پیداوار پر 1300 سو لیٹر اور دھان پر 2500 لیٹرپانی استعمال ہو رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ موسمی تبدیلیوں سے سندھ کے لاڑ کا علاقہ شدید متاثر ہوا ہے جبکہ 1980 سے اب تک کسان نے ڈرپ اری گیشن نظام کو قبول نہیں کیا۔

سیڈا کے جنرل مینیجر ٹرانزیشن غلام مصطفی اجن نے کہا کہ زرعی، معاشی، پانی اور واٹر پالیسی کے متعلق طلبہ کو ان موضوعات پر تحقیق میں شامل کیا جائے جبکہ سرکاری، نجی ادارے اور کسان ملکر پانی پر مشترکہ طور پر آگہی کا کام کریں۔

آر ڈی ایف کے ایگزیگٹیو ڈائریکٹر اشفاق سومرو نے کہا پانی کا مناسب استعمال نہیں ہورہاہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں نہری اور برساتی پانی کا زراعت، گھروں اور خوراک میں استعمال کو درست کرنا ہوگا۔

آر ایچ ایچ کے پروگرام منیجر سروان بلوچ نے کہا دیہی علاقے خوراکی اشیاءتیار کرتے ہیں جبکہ شہری علاقوں میں اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب شہروں میں بھی خوراک بنانی ہوگی اور ویلیو چین سسٹم کی ٹیکنالوجی عام کسان تک منتقل کرنی ہوگی۔ ڈاکٹر دلیپ کمار نے کہا 2050 تک آبادی 9.2 بلین تک پہنچ جائیگی اور تب تک خوراک اور اس کا معیار بہتر نہیں ہوگا، اس موقع پر پروفیسر وحیدہ بلوچ، ڈاکٹر منیر احمد منگریو، نیاز سیال اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔