اسلام آباد۔11اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن کا اجلاس بدھ کو یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر ہدایت اللہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں پائلٹس کے لائسنس کا معاملہ اٹھایا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر محسن عزیز، سینیٹر فیصل سلیم رحمان، سینیٹر عمر فاروق اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے شرکت کی۔اجلاس میں سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ پائلٹس کے لائسنس کے اجراء میں تاخیر سے قومی معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے وزارت اور سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کو ہدایت کی کہ کمیٹی کی حتمی سفارشات اور عملدرآمد کے لئے معاملہ کی تفصیلات پیش کی جائیں۔ اس موقع پر سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ معاملہ کو دانستہ طور پر مذموم عزائم کے ساتھ طول دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے اسی پر ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر فیصلہ دیا اور پائلٹس کی ایف آئی آرز کو بری کر دیا ۔ ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے تاخیر کی کسی بھی طرح کے مذموم عزائم رکھنے کے الزام کی تردید کی اور کہا کہ قانونی طریقہ کار کے حوالے سے سخت مشکلات ہیں اور اس معاملے پر ان کیمرہ میٹنگ کی درخواست کی۔ کمیٹی کے سربراہ نے معاملہ مزید تحقیقات اور انکوائری کے لیے موخر کر دیا۔ہوائی جہازوں سے سامان کی کنویئر بیلٹس پر سامان کی منتقلی کے لئے تعینات عملے کے لیے پالیسی/ایس او پیز کے معاملے اور اس میں تاخیر کی وجوہات پر بحث کرتے ہوئے کمیٹی کو بتایا گیا کہ سی اے اے مسافروں کو تکلیف سے بچنے کے لئے مسافروں کے بہاؤ اور سامان کی ترسیل کے وقت پر گہری نظر رکھتا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پروازوں میں تاخیر کی کچھ وجوہات ایئر لائن/جی ایچ اے لوڈرز کی کمی اور ایک ہی منزل والے ممالک کے سخت پروٹوکول ہیں۔ کمیٹی نے بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں اس ایشو اور دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ طلب کی جن میں دیکھ بھال نہ ہونے اور تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے پرواز میں تاخیر، پروکیورمنٹ کی ترسیل وغیرہ سے متعلق اگلے اجلاس میں تفصیلی بریفنگ طلب کی گئی۔کمیٹی کو پاکستان میں فلائنگ کلبوں کی جانب سے کیش سیکیورٹی کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس وقت فلائنگ اسکول لائسنس (بشمول فلائنگ کلبز) کے لیے سکیورٹی ڈیپازٹ کی ضروریات وفاقی کابینہ کی جانب سے منظور شدہ نیشنل ایوی ایشن کی نظرثانی شدہ پالیسی 2023 کے ساتھ منسلک ہیں جس کی منظوری کلاس II فلائنگ اسکول کے لیے 10 ملین روپے اور کلاس I کے لیے 30 لاکھ روپے ہے۔ کمیٹی کا خیال ہےکہ سی اے اے کو فلائنگ اسکول نہیں چلنا چاہیے بلکہ ایک تعلیمی سیٹ اپ کے طور پر چلنا چاہیے۔ کمیٹی نے معاملہ موخر کرتے ہوئے کلب کے نمائندوں کو بلانے اور اس پر ان کا نقطہ نظر لینے کا فیصلہ کیا۔سینیٹر محسن عزیز نے پی ایس او کی جانب سے پی آئی اے کے طیاروں کو فیول کی عدم فراہمی کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ فیول کی عدم فراہمی ایک نازک مسئلہ ہے اور وزارت کو اس معاملے کو حل کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ وزارت کی طرف سے بتایا گیا کہ پی ایس او کے ساتھ تیل کا انتظام پیشگی بنیادوں پر ہے اور نازک مالیاتی مسئلہ کی وجہ سے پی ایس او کے پاس فیول کی خریداری کے سلسلے میں تقریباً 1,048 ملین روپے بقایا ہیں۔ کمیٹی نے پاکستان میں ہوائی اڈوں کی اس بگڑتی ہوئی صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا جس سے بین الاقوامی سطح پر ملک کا امیج خراب ہو رہا ہے اور اس کے نتیجے میں مختلف ممالک کے لیے پروازوں پر پابندی کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ وزارت اور سی اے اے کو مستعدی اور کارکردگی کے ساتھ ایک فعال نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔کمیٹی کے چیئرمین نے گزشتہ اجلاس میں دی گئی ہدایات کے مطابق کراچی ایئرپورٹ پر کیمروں کی تنصیب پر ڈی جی سی اے اے سے استفسار کیا ، جس پر ڈی جی نے جواب دیا کہ کیمرے منگوائے گئے ہیں اور ٹینڈر دے دیا گیا ہے لیکن اے ایس ایف نے انسٹالیشن کمپنی کا انٹری پرمٹ منسوخ کر دیا ہے۔ سینیٹر ہدایت اللہ نے سیکرٹری سی اے اے کو یہ مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ایئرپورٹ پر کیمرے بھی لگائے جائیں۔ کمیٹی نے 15 روز میں رپورٹ طلب کرلی۔











