نارووال کو تمباکو نوشی کے دھواں سے پاک شہر بنانے کا آغاز

40

نارووال،25اکتوبر(اے پی پی):ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(جنرل) حافظ عرفان حمیدنے نارووال کو تمباکو نوشی کے دھواں سے پاک شہر بنانے کا آغاز کر دیا۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایات کی کہ وہ اپنے اداروں کو تمباکو نوشی سے پاک بنائے اور اپنے اداروں کے اندر “تمباکو نوشی کرنا سخت منع ہے ” کا بورڈ آویزاں کریں،تمام دفاتر میں ایش ٹرے فری پالیسی کا اعلان بھی کیا۔اس سلسلہ میں سب سے پہلے تمام محکموں  کے سربراہان ضلعی سطح پراپنے محکمہ کا ایک فوکل پرسن اور دو ماسٹر ٹرینر نامزد کریں گے جن کو تمباکو نوشی سے پاک شہر بنانے کے حوالےسے ٹریننگ دی جائے گی۔

 ان خیالات کا اظہار  ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے ضلعی عملدرآمد کمیٹی برائے انسداد تمباکو نوشی کے پہلے اجلاس سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسداد تمباکو ایک قومی فریضہ ہے جسے پہلی ترجیح سمجھتے ہیں۔ ضلعی نارووال کو سموک فری بنانے کے لیے  انتظامیہ ہراول دستہ کا کام کرے گی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے اس سلسلہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی عملدرآمد کمیٹی برائے انسداد تمباکو نوشی میں تمام  محکموں کے نمائندوں کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے تمام محکموں کے سربراہان کو ہدایات کی کہ وہ اپنے اداروں کو تمباکو نوشی سے پاک بنائے اور اپنے اداروں کے اندر “تمباکو نو شی کرنا سخت منع ہے ” کا بورڈ آویزاں کریں۔نارووال کو تمباکو نوشی سے پاک شہر بنانے کے لیے عوامی مقامات،عوامی گاڑیوں اور ہوٹلز و ریسٹورنٹس میں انسداد تمباکو قوانین کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی مقامات پر قوانین کا سختی سے نفاذ ضروری ہے جس کے لیے ہرمحکمہ دو ہفتوں میں اپنا ورک پلان بنا کر انتظامیہ کو آگاہ کرے، تمام عوامی مقامات، ہوٹلز و ریسٹورنٹ اور عوامی گاڑیوں میں تمباکو نوشی قانونا جرم ہے جس کے خلاف پولیس فی الفور ایکشن لے۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(جنرل) حافظ عرفان حمیدنےمزیدکہا کہ ایجوکیشن اتھارٹیز اور ڈپٹی ڈائریکٹر کالجزتمام سکولوں کالجوں سے 50 میٹر میں موجود دوکانوں کا ڈیٹا ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرنارووال آفس کوفراہم کرے اور بچوں میں تمباکو کے خلاف تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیےتقریری و تحریری مقابلے کا اہتمام کروائے۔ انہوں نے ضلعی پولیس کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کے قریب تمباکو کی تمام اشیاء کی فروخت پر کریک ڈاون کیاجائے مزید کھلا سگریٹ اور دوکانوں پر تمباکو کے اشتہارات کھلی خلاف ورزی ہیں اس کے خلاف کارروائی کرکے ہر ماہ رپورٹ کمشنر آفس میں جمع کروائی جائے۔انہوں نے مزید کہاکہ تمباکو نوشی قوانین کی خلاف ورزی کے لیے سموک فری پاکستان موبائل ایپلیکیشن پر شکایات کو رواج دیا جائے۔ پی ایچ اے، سوشل ویلفیئر اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ انسداد تمباکو کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کریں۔

اجلاس سے وزارت قومی صحت سے محمد آفتاب احمد  نے  آئندہ کے لائحہ عمل سے شرکاء اجلاس کو اعتماد میں لیا۔ انہوں نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر  کی انسداد تمباکو اور تمباکو کے دھویں سے پاک شہر بنانے کے لیے جاری کاوشوں کو سراہا جس کی وجہ سے پاکستان عالمی ادارہ صحت کے علاقائی ملکوں میں سر فہرست ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نےکہاکہ پاکستان میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد سالانہ تمباکو نوشی کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور 1200 پاکستانی بچے جن کی عمر 6 سے 15 سال کے درمیان ہے روازانہ تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے,حکومت پاکستان کو نہ صرف نئے آنے والوں کا راستہ روکنا ہے بلکہ تمباکو نوشی کرنے والوں کو اس لعنت سے چھٹکارے کے لیے ان کی مدد کرنا ہے۔

  انہوں نے مزید کہا کہ وزارت قومی صحت پاکستان, ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر تمباکو نوشی کے خاتمے اور تمباکو نوشی سے پاک شہر بنانے تک اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو سے پاک آئندہ نسلوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔