اقوام متحدہ کا پاکستان کی  حمایت سے اسرائیل سے فلسطینیوں کے قدرتی وسائل کا استحصال بند کرنے کا مطالبہ

70

اقوام متحدہ، 10 نومبر (اے پی پی): غزہ پر بڑھتے ہوئے اسرائیلی حملوں کے درمیان، اقوام متحدہ کے ایک پینل نے جمعرات کو ایک قرارداد منظور کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل مقبوضہ فلسطین اور مقبوضہ شام کے گولان میں قدرتی وسائل کا استحصال بند کرے ۔

 اس مسودے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی دوسری کمیٹی (اقتصادی اور مالیاتی) نے 151 کے حق میں 6 کے مقابلے میں (امریکہ، کینیڈا، اسرائیل، مائیکرونیشیا، ناورو اور پلاؤ) نے 11 غیر حاضری کے ساتھ منظور کیا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندے سفیر عثمان جدون نے قرارداد کی حمایت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلسطین کے بہادر عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی ہے جو اسرائیلی قابض افواج کے ظلم و ستم کو برداشت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ فلسطینی عوام اور مقبوضہ شامی گولان کی آبادی کے ان کے قدرتی وسائل بشمول زمین، پانی اور توانائی کے وسائل پر ناقابل تنسیخ حقوق کا اثبات ہے، جن کی قابض طاقت اسرائیل کی جانب سے ڈھٹائی سے خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مسودہ جابرانہ اسرائیلی پالیسیوں کے کثیر جہتی اثرات کی ایک اور یاد دہانی ہے، جس میں حق خود ارادیت سے انکار اور مقبوضہ افراد کے معاشی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔

سفیر جدون نے کہا کہ پاکستان اسرائیلی جارحیت کی تازہ ترین لہر کے نتیجے میں مقبوضہ فلسطینی علاقے بالخصوص غزہ کی پٹی میں سیکیورٹی اور انسانی ہمدردی کی سنگین صورتحال پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ تقریباً 11,000 فلسطینی، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جب کہ دیگر غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں اور ضروری سامان کی بندش کے ساتھ زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے جس میں بین الاقوامی انسانی قانون بھی شامل ہے اور یہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہے، یہ وہ اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کی بھی سنگین خلاف ورزی  ہے  جس میں 27 اکتوبر کو اقوام متحدہ  کی جنرل اسمبلی  کے 10ویں ہنگامی خصوصی اجلاس کے ذریعے منظور کی گئی تازہ ترین قرارداد بھی شامل ہے۔

اس قرار داد میں “انسانی بنیادوں پر جنگ بندی” کا مطالبہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اسرائیل فلسطین تنازعہ میں دشمنی کا خاتمہ ہو گا۔