انسانی اسمگلنگ کی روک تھام  کیلئے ٹی آئی پی ہاٹ لائن برائے نیشنل ریفرل میکانزم اور انٹیگریٹڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا افتتاح

64

 

اسلام آباد، 14دسمبر(اے پی پی ):دنیا بھر میں انسانی اسمگلنگ سالانہ اربوں ڈالر کا کاروبار بن چکی ہے اور اس حوالے سے پاکستان  کو بھی استثنیٰ  حاصل نہیں ہے،بین الاقوامی سطح پر انسانوں کی یہ اسمگلنگ انہیں بہتر مالی اور سماجی مستقبل کا جھانسہ دے کر کی جاتی ہے۔

عالمی سطح پر انسانوں کی اسمگلنگ کے اس کاروبار کا شکار زیادہ تر خواتین اور بچے بنتے ہیں، جن کا بعد میں جرائم پیشہ گروہوں کی طرف سے یا تو جنسی استحصال کیا جاتا ہے یا پھر جنہیں غلاموں کی طرح جبری مشقت پر مجبور کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں اس طرح کے جرائم کا سد باب کرنے کے لئے نیشنل ٹی آئی پی ہاٹ لائن برائے نیشنل ریفرل میکانزم اور انٹیگریٹڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا افتتاح کیا گیا ہے ،یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم منصوبہ ہے، جس پر ایک کلک سے اسمگلروں کے خلاف شکایت متعلقہ تھانے کو بھیجی جائے گی اور اسمگلنگ کے شکار افراد  کے تحفظ کے لیے  موثر اقدامات کئے جائیں گے۔

ڈپٹی آسٹریلوی ہائی کمشنر نے ایف آئی اے اور آئی ایل او کی جانب سے اس ایپلی کیشن کے اجراء کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سرہتے ہوئے کہا کہ انسانی اسمگلنگ اور جبری مشقت  کو روکنے کی طرف ایک اہم قدم ہے ۔آئی ایل او کے کنٹری ڈائریکٹرنے اس منصوبے کو انسانوں کے خلاف جرائم کو روکنے کی طرف ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈائریکٹر اینٹی ہیومن اسمگلنگ اسرار احمد  کے مطابق انسانی اسمگلنگ اور ہر قسم کی جبری مشقت  جیسی لعنت کو روکنے کے لیے یہ ایک انقلابی قدم ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان میں ہیومن ٹریفکنگ کے حتمی اعداد و شمار تو معلوم نہیں کیونکہ ایسے واقعات ہمیشہ سارے ہی رپورٹ نہیں کیے جاتے مگر ایک اندازے کے مطابق سالانہ پندرہ سے بیس ہزار لوگ اس غیر انسانی سلوک کا شکار ہوتے ہیں۔

بین الاقوامی برادری کی طرف سے اس ناجائز کاروبار کی بھرپور مذمت بھی کی جاتی ہے اور اس سلسلے میں شعور کی بیداری کے لیے ہر سال تیس جولائی کو اقوام متحدہ کی طرف سے دنیا بھر میں انسانوں کی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن بھی منایا جاتا ہے۔