بلوچستان میں کم عمری کی شادی کی روک تھام کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے؛ نیلوفر بختیار

31

 

کوئٹہ،30 جنوری (اے پی پی):چیئرپرسن نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن نیلوفر بختیار نے کہا کہ بلوچستان میں کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے، ہمیں سمجھنا اور جاننا ہے کہ ہماری لڑکیاں تعلیم حاصل کریں اور صحت مند آزاد شہریوں کے طور پر پروان چڑھیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کوئٹہ میں یو این ایف پی اے، یونیسیف اور یو این ویمن کے ساتھ بلوچستان کےسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں نگراں وزیر صحت امیر محمد خان جوگیزئی، بلوچستان کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن فوزیہ شاہین،بلوچستان کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن، محکمہ برائے سوشل ویلفیئر، سول سوسائٹی کی تنظیمیں، محکمہ صحت ،تعلیم اور میڈیا کے نمائندے، این جی اوز ، دماغی صحت کے ماہرین اور وکلاءنے بھی شرکت کی۔

چیئرپرسن نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن نیلوفر بختیار نے کہا کہ کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون سازی کے حوالے سے میرج ایڈوکیسی مہم کا ساتواں مشاورتی اجلاس منعقد ہواجس میں بلوچستان حکومت کے نمائندوں ،سول سوسائٹی سمیت مختلف طبقات کے لوگوں نے شرکت کرکے ہمیں اپنی تجاویز وسفارشات سے آگاہ کیا، نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن قومی سطح پر قانون سازی کروانے کے لیے پرعزم ہے، ہمیں بچپن کی شادی کے سماجی مسئلے کی سنگینی کا احساس ہے۔

چیئرپرسن نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن نیلوفر بختیار نے کہا کہ کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے این سی ایس ڈبلیو قومی اتفاق رائے پر زور دیتا ہے، 1929 کا چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2024 میں بھی نافذ العمل ہے۔

 تقریب سے نگراں صوبائی وزیر صحت امیر محمد خان جوگیزئی نے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان میں کم عمری کی شادی کے مسئلے کو اجاگر کرنے پر این سی ایس ڈبلیو کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ نگراں حکومت این سی ایس ڈبلیو کے شانہ بشانہ اس ضمن میں کردار ادا کرنے کو تیار ہے،کم عمری کی شادیاں نہ صرف لڑکیوں کو ان کی تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کر دیتی ہیں بلکہ ان کی تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے۔

بلوچستان کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن فوزیہ شاہین نے کہا کہ بلوچستان کمیشن صوبے بھر میں لڑکیوں کے بنیادی حقوق تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے ان کی حمایت کے لیے بھی پرعزم ہے،لڑکیوں اور لڑکوں کو زندگی میں اپنی آراءکا آزادنہ انتخاب کرنے کا مساوی حق یقینی بنانا ہے،ہمیں متحد ہو کر بچپن کی شادی کی زنجیروں کو توڑنے اور اپنے بچوں کی ترقی کے لیے ایک معاون ماحول بنانا ہے۔

سیکرٹری این سی ایس ڈبلیو خواجہ عمران نے شرکاءاور مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا چائلڈ میرج پر روک لگانے کا بل ارینجڈ میرج کے خلاف نہیں ہے، یہ کم عمری کی شادی کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی تعلیم اور زندگی کے ہر شعبے میں نجی اور سرکاری دونوں سطح پر ان کی شرکت وقت کی ضرورت ہے۔

ورکشاپ کے شرکاءکو اس کے مقاصد کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی اور بچوں کی شادی کی حیثیت، اس کے نتائج اور ضوابط کے متعلق آگاہ کیا گیا۔ بچوں کی شادی پر تبدیلی کا ایک اہم نظریہ بھی پیش کیا گیا جس کے بعد بچوں کی شادی کے فریم ورک پر شرکاء کے گروپ ورک کے ذریعے کام کیا اور تجاویزی مشاورت کے شرکاءنے اس بات پر زور دیا کہ کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے حکومتی پالیسیوں، کمیونٹی کی شمولیت، تعلیم اور آگاہی کی مہمات پر مشتمل کثیر جہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ حکومت کو ایسے قوانین کو مضبوط اور نافذ کرنا چاہیے جو بین الاقوامی قوانین سے مطابقت رکھتی ہے،شادی کے لیے کم از کم عمر مقرر کریں بچپن کی شادیوں میں ملوث افراد کے لیے سزائوں میں اضافہ کیا جائے جس میں والدین، سرپرست اور مذہبی یا کمیونٹی رہنما شامل ہوں جو ایسی شادیوں میں سہولتکار کا کردار ادا کرتے ہیں۔

تقریب  کے آخر میں بچوں کی شادی کے خلاف جنگ میں بہترین طریقوں، وسائل اور مہارت کا اشتراک کرنے کے لیے بین الاقوامی تنظیموں، حکومتوں اور این جی اوز کے ساتھ تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا۔