اسلام آباد کے حلقہ این اے 47 میں امیدواروں کے مابین سخت مقابلہ ،ووٹروں کا جوش و خروش عروج پر، بھر پور ٹرن آؤٹ

20

اسلام آباد،8 جنوری ( اے پی پی ) : عام انتخابات 2024 کے لئے وفاقی دار الحکو مت اسلام آباد کے حلقہ این اے 47 میں مختلف امیدواروں کے مابین سخت مقابلہ ہے ، ووٹروں کا جوش و خروش عروج پر ہے ، علاوہ ازیں بھرپور ٹرن آﺅٹ دیکھنے میں ہے ۔ اس حلقے سے ووٹروں کی کل تعداد 433200 ہے ، جس میں مرد ووٹروں کی تعداد 227175 ہے جب کہ خواتین ووٹروں کی تعداد 206025ہے۔

ووٹروں کے لیے حلقہ کے مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر 387 سٹیشنز قائم کئے گئے ہیں جن میں 166خواتین کے لیے اور 166ہی مردوں کے لئے مخصوص ہیں جبکہ باقی 55 پولنگ سٹیشنز میں مرد و خواتین کے لئے الگ الگ پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں۔

حلقے میں پولنگ بوتھ کی تعداد مجموعی طور پر 1272 ہے جن میں 662 مردوں کے لئے اور610 خواتین کے لیے ہیں۔اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 47 میں مضبوط امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

این اے 47 میں مصطفی نواز کھوکھر، شعیب شاہین، طارق فضل چوہدری، سبط بخاری اورکے کاشف چوہدری کے علاوہ دیگرامیدوار باہم مد مقابل ہیں۔

جہاں تک این اے 47 میں پولنگ ڈے پر مختلف پولنگ سٹیشنوں کی صورتحال ہے تو آج پولنگ سٹیشنوں پر مختلف یوسیز جن میں اے پی پی کی ٹیم نے ایکسکلیوسیو کوریج کی ہے بہت ہی گہما گہمی دیکھنے کو ہے۔لوگوں کی اچھی خاصی تعداد اپنا حق رائے دہی کے استعمال کےلئے پولنگ سٹیشنوں کا رخ کرتی رہی ہے۔پولنگ کا عمل بغیر کسی تعطل کے جاری و ساری رہا ہے۔

پولنگ ایجنٹوں نے اے پی پی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ ڈے پر خواتین ووٹروں کی تعداد مرد ووٹروں سے کہیں زیادہ رہی اور خواتین ووٹروں کی ایک بہت بڑی تعداد دیکھنے میں آ رہی ہے۔

جہاں تک جی سیون ون ماڈل سکو کی بات ہے تو یہاں پر میں پولنگ کا عمل جاری و ساری رہاہے ، مرد ووٹروں اور خواتین ووٹروں کی بہت بڑی تعداد میں ووٹ کاسٹ کرنے کےلئے پہنچی ہے۔

ایف سکس ٹو ماڈل میں پولنگ کا عمل کسی تعطل کے بغیر جاری رہا یہاں پر شہریوں نے اے پی پی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن ڈے پر لوگوں کو اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے ہر صورت میں نکلنا چاہئے اور حق رائے دہی استعمال کرنا چاہئے کیونکہ سیاسی شعور اجاگر ہونا نہ صرف جمہوری عمل کیلئے ناگزیر ہے علاوہ ازیں ملک کی بہتری کے لئے بھی ضروری ہے ۔

جی سیون ون ماڈل سکول میں بھی پولنگ افسران سے انتخابات کے حوالے سے تسلی بخش ریمارکس ملے جبکہ خواتین ووٹروں کا ٹرن آؤٹ تمام یو سیز میں زیادہ رہا۔