قابل اعتماد ڈیٹا بیس اور ادائیگی کے جدید طریقہ کار کی بدولت بی آئی ایس پی سماجی تحفظ کے پروگراموں میں نمایاں مقام رکھتا ہے؛ ڈاکٹر امجد ثاقب

14

اسلام آباد،02  فروری (اے پی پی ): چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام  ڈاکٹر محمد امجد ثاقب نے کہا ہے کہ  بی آئی ایس پی کے قابل اعتماد ڈیٹا بیس اور ادائیگی کے جدید طریقہ کار کی بدولت  بین الاقوامی اداروں نے بی آئی ایس پی کی شفافیت اور کاکردگی کوسراہا ہے اور یہ  سماجی تحفظ کے پروگراموں میں عالمی رہنما کے طور پر ایک نمایاں مقام رکھتا ہے جو  9.3 ملین خاندانوں  کو  باوقار طریقے سے مالی معاونت  فراہم کر رہا ہے۔

چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ  مختصر سے وقت میں بی آئی ایس پی نے شراکتی اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کیساتھ مل کر کئی نئے اقدامات شروع کئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ کفالت پروگرام کے تحت سہ ماہی رقم  کے اجراءکے وقت خواتین کو رقم پوری نہ ملنے  اور اس نوعیت کی شکایات پر قابو پانے کے لیے بی آئی ایس پی نے نیا بینکنگ کا نظا م متعارف کرایا ہے  جس کے تحت اب پورے ملک کو 15 کلسٹرز میں تقسیم کردیا گیا ہے اور 8 سے زائد بینکوں  کو اس کام کیلئے مقرر کیا گیا ہے تاکہ کٹوتی کی شکایا ت میں کمی واقع ہو جبکہ  اس سے  پہلے ضرورت مند خواتین میں سہ ماہی رقوم کی تقسیم کا کام صرف 2 بینکوں کے ذمہ تھا۔

ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ بی آئی ایس پی نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر بینظیر کفالت کی سہ ماہی قسط میں 1750 روپے کااضافہ کردیا ہے جس کے بعد  ضرورت مند خواتین اب 8750 روپے کی بجائے 10500 روپے  فی سہ ماہی وصول کریں گی، اسی طرح تعلیمی وظائف اور نشوونما وظائف میں بھی 500 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے ،تعلیمی وظائف کے تحت 83 لاکھ بچے سکولوں میں جارہے ہیں۔

چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ بی آئی ایس پی نے نیشنل ٹیلی کمیونی کیشن کے تعاون سے  ایک جدید کال سینٹر کا آغاز کردیا ہے  جس  کا  مقصد بی آئی ایس پی مستحقین اور عام عوام کو بی آئی ایس پی سے متعلق مستند معلومات اور شکایات کا فوری ازالہ کرنا ہے۔ آپ کسی بھی قسم کی شکایت کے اندراج یا پروگرام سے متعلق معلومات حاصل کرنے کیلئے اس کال سینٹر کے نمبر 080026477 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر امجد ثاقب نے بتایا کہ سندھ اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں  میں  ضرورت مند افراد کی بی آئی ایس پی میں  رجسٹریشن کیلئے موبائل رجسٹریشن وینز کا آغاز کیا جاچکا ہے۔ 25وہیکلز لوگوں کے گھروں کی دہلیزپر جاکر انکی رجسٹریشن کریں گی اور مستقبل میں وظائف کی تقسیم بھی ان وینز کے ذریعے کرنے کا منصوبہ ہے۔

ڈاکٹر امجد ثاقب نے بتایا کہ بی آئی ایس پی کو درپیش چیلنجز میں  سب سے زیادہ جس  مسئلے کا سامنا رہا ہے  وہ جعلی پیغامات یا جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے معصوم عوام کو دھوکہ دینا ہے تاکہ وہ ان سے کچھ پیسے بٹور سکیں۔ انہوں نے کہ بی آئی ایس پی کی جانب سے صرف 8171  سے پیغام آتا ہے اس کے علاوہ کسی دوسرے نمبر سے آنے والے پیغام یا فون کال بھروسہ نہ کریں۔ مستند معلومات کے حصول کیلئے بی آئی ایس پی ویب سائٹ اور  بی آئی ایس پی سوشل میڈیا اکاؤنٹس  دیکھیں۔