پنجابی زبان کی ترویج کیلیے 33ویں تین روزہ بین الاقوامی پنجابی کانفرنس کا انعقاد

33

لاہور، 7مارچ(اے پی پی): ورلڈ پنجابی کانگریس نے پنجابی زبان کے فروغ کیلئے 33ویں تین روزہ بین الاقوامی پنجابی کانفرنس منعقد کی۔ جس میں ہندوستان اور پاکستان کے گلوکاروں، اداکاروں اور ادب کے شعبے سے وابستہ لوگوں نے شرکت کی۔  کانفرنس میں بھارت کے علاوہ انگلینڈ اور کینیڈا سے بھی مندوبین نے شرکت کی اور کانفرنس کے انعقاد کو نہ صرف سراہا بلکہ بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ بھی کیا۔

صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجابی ہماری مادری زبان ہے، ہماری ماؤں نے ہمیں پیدا ہوتے ہی پنجابی سکھائی ہے۔انہوں نے کہا  کہ پاکستان اور بھارت کے لوگوں کا رہنا سہنا، آب و ہوا سب ایک جیسی ہے یہاں تک کے ہماری روایات اور شادی بیاہ میں گائے جانے والے گانے بھی ایک ہی ہیں۔

صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی پنجابی ماں بولی کو اگے بڑھائیں۔ جب تک ہم اپنی ماں بولی سے نہیں جڑیں گے اس پر کام نہیں کریں گے اور جب تک ہم اپنی ماں بولی کو اپنے گھروں میں عام نہیں کریں گے تو تب تک ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس سرزمین کے رہنے والے ہیں۔

مشہور انڈین گلوکار راویندر گریوال نے کہا کہ بہت دل چاہتا تھا کہ پاکستان آؤں۔ میری دعا ہے کہ ہم پاکستان میں اسی طرح اپنی گاڑی میں لاہور آئیں اور یہاں گانے گائیں اور پھر واپس اپنی گاڑی میں جائیں۔

  کانفرنس میں ائے شرکا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح لگتا ہے کہ جیسے ہماری روح یہاں بستی ہے اور ہمیں یہاں پر آنا بہت اچھا لگتا ہے۔ اس طرح کی کانفرنسز ہوتی رہنی چاہیے اس سے اپس میں میل ملاپ اور اپسی بھائی چارہ بڑھتا ہے۔ ایسے کانفرنسز دونوں ملکوں کے درمیان ایک پل کا کام بھی کرتی ہیں۔

دیگر شرکاء نے کہا کہ ہم جب بھی یہاں پہ اتے ہیں تو یہاں ہمیں بہت محبت ملتی ہے بہت پیار ملتا ہے۔