اسلام آباد، 26 اپریل (اے پی پی):وزیراعظم شہباز شریف کے اہم ترین متوقع دورہ چین اور آئندہ ہونے والی 13 ویں جوائنٹ کاپوریشن کمیٹی (جے سی سی) کی تیاری کے حوالے سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیرصدارت جمعہ کو اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف کے آئندہ ہونے والے دورہ چین اور 13 ویں جے سی سی کی تیاری کا جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا متوقع دورہ چین انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا جسکی دعوت چین کی اعلی قیادت نے دی تھی۔ وزارت منصوبہ بندی 5ایز فریم ورک کو سی پیک کے 5 اہم اکنامک کوریڈور کے ساتھ منسلک کرنے میں کام تیزی سے کر رہی ہے ۔ ان کوریڈور میں ملازمت کی تخلیق، گرین انرجی، کوریڈور آف انویشن اور کوریڈور آف انکلوسیو ریجنل ڈویلپمنٹ شامل ہیں۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ وزیراعظم کا دورہ چین انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا اور چین کی خواہش ہے کہ اس دورہ سے پہلے 13 ویں جے سی سی منعقد ہو تاکہ 5 نئے اکنامک کوریڈور سمیت منصوبوں میں مزید تیزی لائی جا سکے اور دورہ سے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر نے متعلقہ وزارتوں کو اہم ہوم ورک جلد مکمل کرنے کی ہدایت بھی جاری کیں۔
واضح رہے کہ چین کہ اعلی قیادت حکومت پاکستان بالخصوص وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سی پیک منصوبوں پر بھرپور اقدامات اٹھانے کی کاوشوں کو سراتا ہے جبکہ چین کی اعلی قیادت نے وفاقی وزیر احسن اقبال کو مسٹر سی پیک کا لقب بھی دیا ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا موجودہ حکومت سی پیک منصوبوں پر عملدرآمد کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ 16 ماہ کی حکومت کے دوران حکومت نے سی پیک کو دوبارہ زندہ کیا جسکو سابقہ دورہ حکومت میں پس پشت ڈال دیا تھا۔انکا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت سی پیک منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کیلئے پرعزم ہے، بالخصوص بلوچستان اور گوادر میں جسکی ایک اسٹریٹجک اہمیت ہے۔2013 سے 2018 تک سی پیک کے تحت پاکستان میں 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری جس سے پاکستان کی معاشی حالت بہترین ہو گئی لیکن بدقسمتی سے 2018 میں ان تمام منصوبوں کر کام روک دیا تھا لیکن 16 ماہ کی حکومت نے ان منصوبوں کو دربارہ زندہ کیا جسکو چین بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔











