کوئٹہ 21 جون (اے پی پی):بلوچستان کا آئندہ مالی سال2024-25کا بجٹ ایوان میں پیش کردیا گیا ۔بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعہ کوا سپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی زیرصدارت شروع ہوا۔
اجلاس میں صوبائی وزیرخزانہ میرشعیب نوشیروانی نے آئندہ مالی سال 2024-25کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس معزز ایوان کے سامنے مخلوط صوبائی حکومت کا پہلا سالانہ بجٹ برائے مالی سال 25-2024 پیش کرنے کا شرف حاصل ہو رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے طول وعرض میں تمام حکومتی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے، مالی نظم و ضبط کے ساتھ عملی اقدامات کے ذریعے عوام کی خدمت،صوبے کی مجموعی ترقی و خوشحالی کے حصول کو ممکن اور اس میں مزید وسعت لائی جاسکے چونکہ صوبائی حکومت کا عزم و حوصلہ بلند ہے اور اس معزز ایوان کے تمام حکومتی اراکین خدمت کے ایک نئے جذبے سے سرشار ہیں۔ جس کا عکس انشاءللہ آپ کو آئندہ مالی سال 25-2024 کے بجٹ میں نظر آئے گا جس کا سہرا قائد ایوان میر سرفراز بگٹی کے سر جاتا ہے جنہیں اتحادی جماعتوں کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔
وزیرخزانہ میرشعیب نوشیروانی نے کہا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ صوبائی آمدنی،فیڈرل ٹرانسفر ز اور صوبائی محصولات پر مشتمل ہے بلوچستان کا زیادہ تر انحصار وفاقی منتقلیوں پر ہے اوریہی ہمارے معاشی وسائل کا بنیادی حصہ ہے جس میں این ایف سی کے تحت طے شدہ باہمی فارمولے کے مطابق قابل تقسیم پول اور براہ راست ٹرانسفرز بھی شامل ہیں۔وفاق سے ملنے والی مجموعی رقم 520.8بلین روپے تھی جو نظرثانی شدہ بجٹ کے بعد553.4بلین روپے ہوگئی ہے ، جس میں قابل تقسیم پول کے 464.7بلین روپے بھی شامل تھے اسکے علاوہ20بلین روپے براہ راست منتقلی کے تھے اور27بلین روپے غیر ترقیاتی گرانٹس نیز36بلین روپے ترقیاتی گرانٹس کے لئے مختص کئے گئے تھے جو نظرثانی شدہ بجٹ کے بعد بالترتیب یوں ہیں481بلین روپے قابل تقسیم پول،41.4بلین روپے براہ راست منتقلی، غیر ترقیاتی گرانٹس کی مد میں کوئی رقم نہیں ملی 30.7بلین روپے ترقیاتی گرانٹس شامل ہیں۔
رواں مالی سال 2023-24میں صوبائی محصولات کا کل تخمینہ 111.9بلین روپے تھا جس میں 37.5بلین روپے ٹیکس،19.3بلین روپے غیرٹیکس آمدن شامل تھے جبکہ مختص کردہ 55بلین روپے کے غیر ٹیکس آمدن برائے لیز ایکسٹینشن بونس کے تحت کوئی رقم نہیں ملی، رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ بجٹ میں ٹیکس آمدن 33.7بلین اور غیر ٹیکس آمدن 10.9بلین روپے ہوگئے ہیں، اس طرح صوبائی محصولات کا کل نظرثانی شدہ تخمینہ 44.7بلین روپے ہوگیا ۔
وزیرخزانہ میرشعیب نوشیروانی نے کہا کہ آئندہ مالی سال 2024-25میں وفاق سے ملنے والے مجموعی محصولات 726.6بلین روپے ہونگے جس کی تفصیلات یوں ہیں 646بلین روپے قابل تقسیم پول، 20.5بلین روپے براہ راست منتقلی،20ملین روپے غیرترقیاتی گرانٹس،59بلین روپے ترقیاتی گرانٹس، آئندہ مالی سال2024-25میں صوبائی محصولات کا کل تخمینہ 124.4بلین روپے ہے جس میں ٹیکس آمدن کا حجم 47.6بلین روپے جبکہ غیرٹیکس آمدن کا حجم 18.8بلین روپے اور اسکے علاوہ لیز ایکسٹینشن بونس کے تحت 58بلین روپے متوقع ہیں۔
آئندہ مالی سال 2024-25میں اخراجات کا کل تخمینہ 930.2بلین روپے ہے جس میں غیر ترقیاتی بجٹ کا کل حجم 609بلین روپے اوراخراجات جاریہ کا حجم 564.8بلین روپے ہے اس کے علاوہ کیپٹل اور اسٹیٹ ٹریڈنگ کے تحت اخراجات کا تخمینہ 44بلین روپے جبکہ مجموعی ترقیاتی بجٹ کا کل حجم 321بلین روپے ہے جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں آئندہ مالی سال2024-25کے دوران صوبائی پی ایس ڈی پی میں نئی ترقیاتی اسکیموں کی تعداد 2704ہے جاری اسکیموںکی تعداد3976ہے اس طرح صوبائی پی ایس ڈی پی کا کل حجم 219.561بلین روپے ہے ۔











