اسلام آباد۔14جون (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کا اجلاس سینیٹرقرۃ العین مری کی زیر صدارت جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔
کمیٹی نے مختلف وزارتوں کے پی ایس ڈی پی کے منصوبہ جات اور ان پر ہونے والی پیشرفت سمیت جاری اور نئے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ سرمایہ کاری بورڈ اور کابینہ ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو مختلف جاری منصوبوں اور نئی سکیموں بارے تفصیلی آگاہ کیا۔ کابینہ ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو پائیدار ترقی کے مقاصد کے حصول کے پروگرام بارے بریفنگ دی اور بتایا کہ منصوبہ جات کے لئے 75 ارب روپے رکھے گئے ہیں نئے منصوبوں میں تعمیرتی کام کے منصوبے اور نیشل آرکائیو کی عمارت کی بحالی اور اپ گریڈیشن کا منصوبہ، سکوارڈن۔ 6 کی کارکردگی کو بڑھانے اور سیکورٹی اقدامات کو مزید بہتر کرنے سے متعلق اقدامات وغیرہ کا جائزہ لیا گیا۔ جاری منصوبوں کے حوالے سے کامرس ڈویژن کے حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ ایکسپو سینٹرکی مجموعی لاگت 2500 ملین روپے ہے۔
چیئرپرسن قائمہ کمیٹی سینیٹرقرۃ العین مری نے ہدایت دی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ منصوبے کا جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا اور تاخیر ی حربے استعمال نہ کئے جائیں۔ نئے منصوبوں کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ ایس ایم ایز کے لئے ایکسپورٹ ایکسیلریٹرکا منصوبہ زیر غور ہے جس پر منصوبہ بندی ڈویژن نے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نئے منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 3 ارب روپے کا ہے جبکہ اس کے لئے 750 ملین کی خطیر رقم اگلے سال میں مختص کی جائے گی۔
وزارت مواصلات کے حکام نے کمیٹی کو پی ایس ڈی پی منصوبہ جات پر بریفنگ دی۔ جس پر چیئرپرسن کمیٹی نے ہدایت کی کہ تمام صوبوں میں جاری اور نئے منصوبہ جات کی تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی جائیں مزید برآں ان منصوبوں کے لئے مختص کیے گئے فنڈز کی تفصیلات پیش کی جائیں۔
چیئرمین اور اراکین کمیٹی نے حیدرآباد سکھر موٹر وے پر ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور اس اہم منصوبے پر کام کی رفتا کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ چیئرپر سن کمیٹی نے کہا کہ اس منصوبے کو پہلے ہی مکمل ہو جانا چاہئے تھا اب اس کو وقت پر مکمل کیا جائے اور تاخیر کا شکار نہ ہونے دیا جائے۔
قائمہ کمیٹی نے پوسٹل سروسز کی اہمیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں پوسٹل سروسز کا معیار بہتر ہوا ہے تاہم پاکستان میں بھی اس طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔قائمہ کمیٹی نے پوسٹل سروسز کے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ پوسٹل سروسز کے معیار اور کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے عالمی معیار کے مطابق نئے منصوبہ جات متعارف کرائے جائیں۔ اسٹبلشمنٹ ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کل 9 منصوبے ہیں جن میں سے 5 جاری اور 4نئے ہیں جاری منصوبوں میں سے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ، نیشنل سکول آف پبلک پالیسی لاہور میں ٹریننگ اور ریسرچ کی سہولیات کو بہتر بنانے کا منصوبہ، سول سروسز اکیڈمی لاہور میں ٹریننگ سہولیات کو بہتر بنانے کا منصوبہ، چک شہزاد میں این سی آر ڈی کمپلیکس کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ اور این آئی ایم پشاور کے آڈیٹوریم کی تعمیر کے منصوبہ جات شامل ہیں۔ فنانس ڈویژن اور وزارت داخلہ نے بھی اپنے منصوبوں پر تفصیلی آگاہ کیا۔
قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی ترقی اور خصوصی اقدامات کے دوسرے سیشن میں بھی مختلف وزارتوں کے پی ایس ڈی کے منصوبہ جات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
وزارت دفاع کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت دفاع کے کل 15 منصوبے ہیں جن میں سے 9 جاری سکیمیں اور 6 نئے منصوبے ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایچ ای سی کے کل 159 منصوبے ہیں جن میں سے 34 رواں سال مکمل ہو جائیں گے۔ 74 منصوبے اگلی اسٹیج پر ہیں،5 فارن فنڈنگ کے منصوبہ جات ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اعلیٰ تعلیم کے لئے 9 مختلف وظائف کی سکیمیں بھی ہیں۔
وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے حکام نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ 161 منصوبہ جات ہیں جن میں سے 22 نئے منصوبے ہیں جن کا تخمینہ46 ارب روپے تھا۔حکومت کی جانب سے 27.88 روپے مختص کیے گئے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 14 منصوبوں پر 80 فیصد کام ہو چکا ہے۔118 منصوبوں پر 60 فیصد کام ہو چکا ہے۔ نئے منصوبوں کے لئے کل 15 فیصد فنڈ الاٹ کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ جاری منصوبوں کو ترجیح دی جائے اور کوشش کی جائے ان منصوبوں پرکم ازکم 30 فیصد کام لازمی ہو پھر نئے منصوبے شروع کیے جائیں۔
وزارت قانون و انصاف کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت قانون و انصاف کے کل 10 پی ایس ڈی کے منصوبہ جات ہیں جن میں سے 9 جاری اور ایک نیامنصوبہ ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک سہولت سینٹر قائم کیا جارہا ہے جس پر تقریباً دو ارب روپے خرچ ہونگے جس میں پبلک کے ساتھ ساتھ وکلا ءکے بیٹھنے کی بھی جگہ ہو گی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ اگر مطلوبہ فنڈز فراہم کیے جائیں تو ان منصوبہ جات میں سے 6 سکیمیں اسی سال مکمل ہو جائیں گی اگر فنڈ نہ ملے تو4 سکیمیں مکمل ہو گی۔وزارت اطلاعات ونشریات کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کل15 پی ایس ڈی پی منصوبہ جات ہیں جن میں سے 5 جاری اور 9 نئی سکیمیں ہیں 15 میں سے 12 اسی سال مکمل ہو جائیں گے۔
نارکوٹیکس کنڑول کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کا ایک ہی منصوبہ ہے جو اگلے سال مکمل ہو گا۔چیئرپرسن کمیٹی سینیٹرقرۃ العین مری نے کہا کہ ملک میں منشیات کے استعمال کے تدارک کیلئے موثر اقدامات کرنے چاہیں اور منشیات کے عادی افراد کی بحالی سینٹر پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
چیئرپرسن کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں منشیات کے عادی افراد کے علاج کے لئے 6سینٹر بنائے گئے ہیں جن کو صوبوں کے ساتھ مل کر چلایا جا رہا ہے۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اے این ایف کے پاس 3700 ملازمین ہیں جن میں سے 20 فیصد سرکاری دفاتر اور بقیہ 80 فیصد ملازمین کرائے کے عمارتوں میں امور سرانجام دے رہے ہیں۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیراعظم پاکستان کی ہدایت کے مطابق ملک بھر کے سکولوں اور کالجوں کو منشیات فری بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزارت آبی وسائل کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارے کی 56 جاری اسکیمیں ہیں،13 منصوبے اسی سال مکمل ہو گے، بھاشا ڈیم کے لئے دریا کا رخ موڑ دیا گیا ہے اب ڈیم کی جگہ تعمیر کے قابل ہو چکی ہے۔ 11 منصوبے ہائیڈرو پاور سے متعلق ہیں۔کمیٹی کو K-iv، بھاشا ڈیم، دیا میر ڈیم، داسو ڈیم اور کچی کنال کے کے منصوبہ جات بارے بھی آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی سے درخواست کی گئی کہ وہ صوبوں کو آگاہ کریں کہ وہ کمبائنڈ ایریا کو ڈویلپ کروائیں۔ وزارت بحری امور کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کے کل 6 پی ایس ڈی پی کے منصوبہ جات ہیں جو جاپان کی حکومت کے فنڈ سے مکمل کئے جا رہے ہیں۔
وزارت صحت کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت صحت کے کل 41 پی ایس ڈی پی کے منصوبہ جات ہیں جن میں 27 جاری اور 14 نئے منصوبے ہیں۔ وزارت قومی تحفظ خوراک کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ کل 26منصوبہ جات ہیں جن میں 18 جاری اور 8 نئے ہیں۔ 26 منصوبوں میں سے 18 منصوبے اسی سال مکمل ہو گے ان منصوبہ جات کے لئے 41.25 ارب روپے مختص ہو چکے ہیں۔ ان منصوبہ جات کو 7 مختلف سیکٹرزمیں تقسیم کیا گیا ہے۔ جن میں سے 8 پیدواری،لائیو سٹاک، کپیسٹی بلڈنگ، انفراسٹرکچر، بیماریوں کے کنڑول، ٹریک اینڈ ٹریس کے علاوہ ٹیوبز ویل کی سولر ائزیشن کے منصوبے وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اجلاس میں سینیٹرز جام سیف اللہ خان، شہادت اعوان، ڈاکٹر افنان اللہ خان کے علاوہ متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔











