کوئٹہ، 22 جون(اے پی پی)؛صو بائی و زیر خزانہ میر شعیب نو شیروانی نے کہا ہے کہ رواں مالی سال بجٹ2024-25 میں بلو چستان کے تمام ڈویژنز کو یکساں اہمیت دی گئی ہے، بجٹ میں عوامی مفاد عامہ کو مد نظر رکھ کرسکیموں کو تر جیح دی گئی ہے، کافی عرصے بعد بلوچستان حکومت نے اپنا سر پلس بجٹ پیش کیا۔ تعلیم، صحت، اور موسمیاتی تبدیلی پر خاص طور پر فوکس کیا گیاہے، ترقیاتی بجٹ میں دس کروڑ تک کے منصوبوں کے لئے سو فیصد بجٹ مختص کیا گیا، جس کے دور رس نتائج بر آمد ہونگے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے صو بائی و زیر منصوبہ بندی و ترقیات ظہور احمد بلیدی، تر جمان بلو چستان حکومت شاہد رند، سیکرٹری خزانہ کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پر پر یفنگ دیتے ہو ئے کیا ۔
صو بائی وزیر خزانہ میر شعیب نو شیروانی نے کہا کہ بلو چستان میں پسماند گی، غربت بہت زیادہ ہے، لو گوں کا انحصار حکومت کی جانب سے پیش کر دہ بجٹ پر ہے ،حکومت کی جانب سے عوامی مسائل حل کرنے کے لئے تمام وسائل بروے کار لائے جائیں گے ۔بلو چستان میں اربوں روپے لیپس ہونے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہو ئے انہوں نے کہا کہ جب کو ئی فنڈ ریلیز ہوا ہی نہیں تو ضائع کیسے ہوگا؟، سیندک پروجیکٹ سمیت صوبے کے معدنی وسائل سے اربوں روپے ملنے کی توقع ہے، زمینداروں کی بجلی کے مسائل حل کرنے کے لئے و زیر اعلیٰ بلو چستان نے و زیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔
وزیر اعلیٰ بلو چستان صوبے کے مسائل حل کرنے کے لئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو سے بھی رابطے میں ہے۔ و زیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے بلو چستان کے زمینداروں کے ٹیوب ویلز کو سولر پر منتقل کرنے کے عمل کو سراہا ہے اور ہر قسم کے تعاون کی دہانی بھی کرائی ہے ، صوبائی حکومت کفایت شعاری پر یقین رکھتی ہے، صوبے کے وسائل کو احتیاط سے خرچ کرنا چاہتے ہیں۔ گیس ڈویلپمنٹ سر چارج کی مد میں بلو چستان کو اربوں روپے ملنے کا امکانات ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے و زیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کے اخراجات میں اضا فے کی وجہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کو قرار دیا۔
صو بائی و زیر پی اینڈڈی ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ صوبائی پی ایس ڈی پی کا کل حجم 219 ارب روپے ہے جس میں جاری سکیموں کی تعداد 3976جبکہ نئے ترقیاتی منصوبوں کی تعداد 2704 ہے ، انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ اہمیت تعلیم کے شعبے کو دی گئی ہے 26ارب روپے سے زائد رقم اسکول سیکٹر کیلئے مختص کئے گئے جبکہ دو ارب آﺅٹ آف اسکول بچوں کے لئے رکھے گئے ہیں جن اسکولوں کی عمارات نہیں ان اسکولوںکیلئے بلڈنگز بنائیں جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں 45فیصد اضا فہ کیا گیا ہے ،گزشتہ برس بجٹ میں 13ارب کے منصوبے شامل تھے ،نئے بجٹ میں 23ارب روپے مختص کئے گئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا ٹارگٹ ہے کہ رواں برس 1200سو سے زائد منصبوں کو بروقت مکمل کیا جائے ،بلو چستان گرین ٹریکٹر کا فیز ٹو بھی شروع کیا گیا ہے ،گر ین ٹریکٹرز کیلئے 2.3ارب روپے رکھے گئے ہےں۔ صو بے کی تمام سیاسی جماعتیں خواہ وہ حکومتی ہوں یا اپوزیشن کسی نے بجٹ پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا ۔
بلوچستان کے تمام علا قوں کو یکساں اہمیت دی گئی ہے ، انہوں نے کہا کہ 99ارب روپے ضائع ہونے کی خبروں میں صداقت نہیں ۔ نصیر آباد بیلٹ کی آبادی زیادہ ہے وہاں پر ایک ہسپتال کی اشد ضرورت ہے تاکہ لو گوں کو بروقت علا ج کی سہو لیات میسر ہوں۔
صو بائی و زیر ظہور بلیدی نے کہا کہ اگر 220ارب کے ترقیاتی فنڈز بھی لگائے جائیں تو بھی صو بے کیلئے مزید فنڈز درکار ہوں گے ، سوشل سیکٹر میں عوامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی بجٹ خرچ کریں گے۔وفاقی حکومت سے ڈیمز، ٹرانسمیشن لائنز و دیگر منصبوں کے حوالے سے بات چیت جاری رہے گی ۔
اس موقع پر تر جمان بلو چستان حکومت شاہد رند نے کہا کہ پانچ ماہ قبل بجٹ پر کام شروع کیا گیا صو بے کے مسائل زیادہ ہیں، عوامی نوعیت کی سکیموں کو ترجیح دی گئی ہے ۔ بجٹ بنانے کے لئے دن رات کام کیا گیا ۔اگر ماضی کے پی ایس ڈی پی منصبوں کو مکمل شامل کیا جا تا ہے تو25سال تک یہ منصوبے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتے یہی وجہ ہے عوامی نوعیت کے منصبوں کو تر جیح دی گئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ جولائی کے پہلے ہفتے میں ٹینڈرنگ شروع ہوگی ۔ ترجمان بلو چستان حکومت شاہد رند نے کہا کہ گرین بس سروس کو مزید صو بے کے دیگر علا قوں تک وسعت دینے کے لئے ایک ارب روپے رقم مختص کی گئی ہے کو ئٹہ کے بعد تربت میں گرین بس سروس شروع کی جا رہی ہے، دس کروڑ سے کم منصوبوں کے لئے سو فیصد بجٹ رکھا گیا ہے ۔











