اقوام متحدہ، 14 مئی ( اے پی پی ): پاکستان نے حوثیوں اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے، اسے ایک اہم سفارتی کامیابی اور یمنی فریقوں کے درمیان داخلی سیاسی مکالمے کو فروغ دینے کا موقع قرار دیا ہے۔
یمن پر آج سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران قومی بیان دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یہ موقع ضائع یا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے ، اسے ایک جامع اور یمنی زیرقیادت سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے یمن میں لاکھوں افراد کی مسلسل مصیبت پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جو ایک دہائی سے زائد جاری تنازعے اور خصوصاً بحیرہ احمر اور وسیع تر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی سے مزید سنگین ہو چکی ہے۔
سفیرعاصم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مسئلہ، جو کبھی صرف داخلی نوعیت کا تھا، اب ایک پیچیدہ علاقائی و بین الاقوامی بحران بن چکا ہے، جس کے سنگین انسانی، سیاسی، معاشی اور ماحولیاتی اثرات ہیں۔
انہوں نے یمنی تنازعے کے پرامن اور سیاسی حل کے لیے پاکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ، انڈر سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر اور محترمہ دینا المامون نے کونسل کو تفصیلی بریفنگز دیں۔
پاکستانی سفیر نے زور دیا کہ صرف وہی سیاسی عمل جو یمن کے عوام کی قیادت(Yemeni-led) اور ملکیت (Yemeni-owned) میں ہو اور جس کی اقوام متحدہ معاونت کرے، امن کا ایک قابلِ اعتماد اور دیرپا راستہ فراہم کر سکتا ہے اور پاکستان اس عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے سعودی عرب اور عمان کی طرف سے جاری سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ دسمبر 2023 کے روڈ میپ پر عمل درآمد کریں، زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، اور سفارت کاری کو اولین ترجیح دیں۔
سفیر عاصم نے یمن کے 1.95 کروڑ متاثرہ افراد کی سنگین ضروریات کو اجاگر کیا، جن میں 1.71 کروڑ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور 1.2 کروڑ بچے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ OCHA کی انسانی امداد کی فوری اپیل پر فیاضی سے اور بروقت جواب دے۔
انہوں نے ان تمام حملوں کی شدید مذمت کی جو عالمی سمندری سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، اور سیکرٹری جنرل کی حالیہ رپورٹ (قرارداد 2722) کا حوالہ دیا، جس میں بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثیوں کی جانب سے حالیہ حملوں کی عدم موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔
سفیر عاصم نے انسانی ہمدردی اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی مسلسل غیر قانونی حراست کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا، اور یمن بھر میں محفوظ اور بلا رکاوٹ انسانی رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے سلامتی کونسل کی توجہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی جانب مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف فلسطینی عوام کی تکالیف میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں حالیہ کشیدگی سمیت وسیع تر علاقائی عدم استحکام کو بھی جنم دے رہی ہے۔
انہوں نے غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کو ایک انسانی ضرورت اور علاقائی امن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
آخر میں، سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن کے عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا اور عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر کردار ادا کریں تاکہ مزید بگاڑ کو روکا جا سکے اور یمن کے لیے ایک پرامن مستقبل کی راہ ہموار کی جا سکے۔











