اسلام آباد، 22 مئی(اے پی پی): بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت عالمی بینک کے اعلیٰ سطحی وفد نے اسلام آباد میں واقع ون ونڈو سینٹر کا دورہ کیا۔ وفد کی قیادت عالمی بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر برائے آپریشنز، اینا بجرڈے نے کی، جبکہ بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے وفد کا پُرتپاک خیرمقدم کیا۔
دورے کا مقصد سینٹر میں مستحق خواتین کو فراہم کی جانے والی خدمات اور سہولیات کا جائزہ لینا تھا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ بھی موجود تھے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے وفد کو آگاہ کیا کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے پاکستان کی لاکھوں غریب خواتین کو نہ صرف مالی مدد ملی بلکہ انھیں قومی شناخت بھی حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ نادرا کے بعد بی آئی ایس پی کے پاس ملک کا دوسرا سب سے بڑا مستحق گھرانوں کا ڈیٹا بیس موجود ہے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے بی آئی ایس پی کی مسلسل حمایت پر عالمی بینک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ادارے باہمی تعاون اور شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے لیے کوشاں ہیں۔
بی آئی ایس پی کے سیکرٹری عامر علی احمد نے وفد کو سینٹر کے “ون ونڈو” آپریشنز اور مختلف اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ وفد نے سینٹر کے نظام، خدمات اور شفافیت کو سراہا اور وہاں موجود خواتین سے براہ راست بات چیت کی۔
عالمی بینک کی نمائندہ اینا بجرڈے نے بی آئی ایس پی کے مشروط اور غیر مشروط مالی معاونت کے پروگرامز کی تعریف کی، خاص طور پر “بینظیر نشوونما پروگرام” کو ماں اور بچے کی صحت و غذائیت کے لیے ایک مؤثر اقدام قرار دیا۔











