وفاقی وزیراحسن اقبال کی زیر صدارت”اُڑان پاکستان” پروگرام کے تحت پاکستان کی برآمدات پر مبنی ترقیاتی حکمت عملی کا جائزہ لینے کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس

14

اسلام آباد، 12 مئی( اے پی پی ): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، پروفیسر احسن اقبال نے “اُڑان پاکستان” پروگرام کے تحت پاکستان کی برآمدات پر مبنی ترقیاتی حکمت عملی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ یہ اجلاس پانچ “ایز” پر مبنی فریم ورک کے پہلے ستون “ایکسپورٹس” کے حوالے سے پہلا دوماہی جائزہ اجلاس تھا، جس کا مقصد 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔

اجلاس کے دوران پروفیسر احسن اقبال نے تمام متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ وہ مخصوص ورکنگ گروپس قائم کریں، کلسٹر کی بنیاد پر کاروباری منصوبے تیار کریں، قابلِ پیمائش برآمدی اہداف طے کریں، اور آئندہ دو ہفتوں میں ہونے والے جائزہ اجلاس سے پہلے جامع عملی خاکے جمع کروائیں۔ انہوں نے آئندہ پانچ برسوں میں 60 ارب ڈالر کی برآمدی ہدف کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مشن کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معمول کے مطابق کاروبار نہیں ہے۔ ہمیں ایک بالکل مختلف حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ یہ ایک سو میٹر کی دوڑ ہے، ہمیں اپنے مقابلین سے تیز دوڑنا ہوگا تاکہ ہم عالمی منڈیوں میں جگہ بنا سکیں۔ وزیر منصوبہ بندی نے ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی اور ویلیو چین ڈیولپمنٹ کی اہمیت پر زور دیا، اور وزارت منصوبہ بندی کے سینئر افسران کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر ملکی صلاحیتوں کے تجزیے اور عالمی مارکیٹ رجحانات کے نقشے کے لیے ڈیٹا اینالٹکس مشق کا آغاز کریں۔

 انہوں نے کہا کہ جب تک ہمارے پاس درست اور ٹھوس ڈیٹا نہیں ہوگا، ہماری وسائل ضائع ہوں گے۔ ہمیں منصوبہ بندی کی میز پر بیٹھنا ہوگا اور اپنی صلاحیتوں کو عالمی طلب کے مطابق ہم آہنگ کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات کا فروغ صرف لیٹر آف کریڈٹ کھولنے اور کنٹینر بھیجنے تک محدود نہیں، بلکہ اس کے لیے ایک مکمل ایکو سسٹم درکار ہے، جس میں ریگولیٹری کمپلائنس، سرٹیفکیشن، برانڈنگ، اور عالمی سپلائی چینز سے انضمام شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میڈ اِن پاکستان‘ کو معیار، پیداواریت اور پائیداری کا مترادف بنانا ہوگا۔

اس مقصد کے لیے، وزارت منصوبہ بندی آٹھ اسٹریٹجک کلسٹرز کی ترقی میں سہولت فراہم کر رہی ہے، جنہیں پاکستان کی برآمدی ترقی کے مستقبل کے انکرز کے طور پر شناخت کیا گیا ہے، جن میں زراعت اور زرعی مصنوعات پر مبنی برآمدات، صنعت و پیداوار (بشمول ٹیکسٹائل، انجینئرنگ، دواسازی)، خدمات (آئی ٹی کے علاوہ، بشمول مالیاتی خدمات، میڈیکل ٹورازم، کنسلٹنسی)، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات، معدنیات اور کان کنی، افرادی قوت کی برآمد اور بیرون ملک ملازمت، بلیو اکانومی (سمندری شعبہ جات)، اور تخلیقی صنعتیں (میڈیا، فنون لطیفہ، ثقافت) شامل ہیں۔

ہر کلسٹر کو متعلقہ وزارت کے سپرد کیا گیا ہے تاکہ وہ بین الوزارتی تعاون سے اپنے شعبے کے اندر ہر پراڈکٹ اور ذیلی شعبے کے لیے تفصیلی کاروباری منصوبے تیار کریں۔ اپنی گفتگو میں پروفیسر اقبال نے بین الاقوامی ماحولیاتی اور معیار کے معیارات کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا، جس میں جی ایس پی پلس جیسے ترجیحی تجارتی نظام کے لیے درکار سرٹیفکیشن بھی شامل ہیں۔

انہوں نے اس چیلنج کو معاشی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے وزارت تجارت کو ہدایت کی کہ وہ 60 ارب ڈالر کا ہدف آٹھوں شعبوں میں تقسیم کرے، عملی پالیسی اقدامات تجویز کرے، اور صوبائی و نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز سے قریبی تعاون کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک قومی جدوجہد ہے۔ جس طرح ہماری فضائیہ نے محنت سے ملک کا نام روشن کیا ہے، اب ہماری اقتصادی اداروں کو بھی یہی کردار ادا کرنا ہوگا۔

وزیر منصوبہ بندی نے اختتامی کلمات میں 80/20 اصول پر زور دیا یعنی زیادہ سے زیادہ اثر ڈالنے والے منصوبوں پر توجہ  اور کہا کہ “اُڑان پاکستان” کے تحت ہر “ای” کی کارکردگی کے لیے دو ہفتوں بعد جائزہ اجلاس منعقد ہوگا تاکہ عملدرآمد اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔