اسلام آباد، 12 مئی (اے پی پی ):قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں بلا اشتعال بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کی خودمختاری کے دفاع میں مسلح افواج کی مثالی پیشہ وارانہ مہارت، چوکسی اور جرات کو سراہا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد میں مسلح افواج کے غیر معمولی تحمل اور ذمہ داری کے ساتھ ساتھ بھارتی جارحیت کا ناپاک اور مناسب جواب دینے کی بھی تعریف کی گئی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کو اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کو اپوزیشن کے ساتھ مشاورت سے ایوان میں قرارداد لانے کی ہدایت کردی۔
پیر کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات سے قبل انہوں نے کہا کہ وزیر قانون قرارداد لانا چاہتے ہیں تو اس پر اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کرلیں۔ قرارداد پر حکومت و اپوزیشن کےساتھ مشاورت تک وقفہ سوالات شروع کر دیاگیا۔جس میں ان بہادر شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا جنہوں نے مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور قومی فخر، لچک اور اتحاد کی علامت کے طور پر ان کی عظیم قربانی کا اعتراف کیا۔
ایوان نے قرارداد کے ذریعے پاکستانی قوم کو ننگی بھارتی جارحیت کے خلاف مادر وطن کی ارضی سالمیت کا دفاع کرنے کا شرف عطا کرنے پر اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کے ساتھ سر جھکا دیا۔ ایوان نے پوری قوم کو مبارکباد پیش کی، جو تمام اختلافات سے بالاتر ہو کر سیاسی میدان میں اپنی قیادت کے پیچھے ایک آواز، پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔قرارداد میں اس نازک موڑ پر پاکستان کی حمایت پر دوست ممالک کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا۔
قومی اسمبلی نے وقار اور عزت کے ساتھ علاقائی اور عالمی امن کے لیے اپنے عہد کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ جمہوریتیں تنازعات کے بجائے مذاکرات کے لیے پرعزم ہیں۔ لہذا، اس نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جنوبی ایشیا میں محفوظ ہمسائیگی اور طویل مدتی استحکام صرف مخلصانہ اور منظم مذاکرات کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
قرار داد میں حکام پر زور دیا گیاکہ وہ جموں و کشمیر کے تنازعہ کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی کوششوں میں عالمی برادری کو فعال طور پر شامل کریں۔
ایوان نے سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس نے قومی سلامتی کے ایک اہم جز کے طور پر پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کی بھی توثیق کی۔
قرارداد میں ایوان کے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ وہ قومی مفادات کے تحفظ اور پاکستان کے عوام اور اس خطے میں رہنے والے لوگوں کے لیے امن، اتحاد اور سلامتی کے فروغ کے لیے اپنا آئینی کردار ادا کرتے رہیں گے۔
ایوان نے پوری قوم کو مبارکباد دی جو تمام اختلافات بھلا کر پاکستان کا نعرہ بلند کرتے ہوئے پوری سیاسی قیادت کے ساتھ متحد ہوکر کھڑی رہی۔قرارداد میں اس نازک وقت میں پاکستان کی حمایت کرنے پر دوست ملکوں سے مخلصانہ اظہار تشکر کیا گیا۔
اس سے قبل، آج قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں غربت کے خاتمے کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے تازہ ترین گھریلو آمدنی کے اخراجات کا سروے مکمل کر لیا گیا ہے۔
وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال کے جواب میں وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس اس وقت سروے کے اعداد و شمار مرتب کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے تخمینے اس سال کے آخر تک دستیاب ہوں گے جبکہ اس کی حتمی رپورٹ اگلے سال شائع ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عوام کے لیے موجودہ ریلیف اقدامات 2018-2019 کے اعداد و شمار پر مبنی ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے نجکاری آسیہ اسحاق صدیقی نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کا عمل رواں سال کے آخر تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔
ایوان نے خواتین اور بچوں سمیت 31 معصوم شہریوں کے ساتھ ساتھ مسلح افواج کے اہلکاروں کی روح کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی، جن میں پاک فضائیہ کے اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف بھی شامل ہیں، جو پاکستان کے خلاف حالیہ بھارتی جارحیت میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایوان نے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں جام شہادت نوش کرنے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت دیگر کے لیے بھی فاتحہ خوانی کی۔ علی محمد خان نے فاتحہ خوانی کی۔
قومی اسمبلی نے “اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی (ترمیمی) بل، 2025” اور “قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل، 2025” کو بھی منظور کیا۔ ل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کئے۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ حکومت روز ویلٹ ہوٹل نیویارک کو جوائنٹ ونچر پر چلانے پر غور کررہی ہے،یہ بہترین لوکیشن پر اچھی پراپرٹی ہے۔
پیر کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ رروز ویلٹ ہوٹل نیویارک پاکستان کی اچھی پراپرٹی ہے،ایسی عمارت نیویارک میں کوئی اور نہیں ہے، اس کے دو راستے ہیں اوراسے مرکزی حیثیت حاصل ہے،19 منزلہ عمارت ہے کوشش ہے اس پر جوائنٹ ونچر ہوجائے تو فائدہ ہوگا۔ایوان کا اجلاس کل دن گیارہ بجے تک ملتوی ہوا۔











