اسلام آباد،09 جون (اے پی پی ):مالی سال 25-2024کے اقتصادی سروے کے مطابق رواں مالی سال میں مجموعی قومی پیداوار( جی ڈی پی ) میں 2.7فیصد اضافہ ہوا،جی ڈی پی کا حجم پہلی مرتبہ 411ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ،فی کس سالانہ آمدنی 1824 ڈالر رہی ، افراط زر کی شرح 0.3فیصد تک کم ہوگئی ، برآمدات میں 6.8فیصد جبکہ ترسیلات زر کے محصولات میں 30.9فیصد اور ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں 25.9فیصد اضافہ ہوا ہے ، مالیاتی خسارہ 2.6فیصد تک کم ہوگیا جبکہ کے ایس ای 100 انڈیکس میں 52.6فیصد کی شرح نمو ریکارڈ کی گئی ہے ۔ گزشتہ مالی سال کے دوران زرمبادلہ کے قومی ذخائرمیں 5 ارب ڈالر کا دوگنا اضافہ ہوا ہے جبکہ مالی سال 2023 میں زرمبادلہ کے ذخائر5.4ارب ڈالر تھے،مالیات کے موثر نظام اور اخراجات پرکنٹرول سے گزشتہ 20 سال میں پہلی مرتبہ پرائمری بیلنس سرپلس رہا ہے جس سے جی ڈی پی کے مقابلے میں قرضوں کی شرح میں خاطرخواہ کمی ہوئی،اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ میں مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری 16.5فیصد اضافہ سے 1209.4ملین ڈالرتک بڑھی ہے۔سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کے نتیجہ میں جاری مالی سال میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 52.6فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح ٹیکس محصولات میں 25.9فیصد کی شرح نمو سے محصولا ت کا حجم 8126ارب ڈالر کے مقابلے میں جولائی 2024تا مئی 2025کے دوران 10ہزار234 ارب ڈالر تک بڑھ گیا۔ جاری مالی سال کے دوران جی ڈی پی کے مقابلے میں مالیاتی خسارے کی شرح گزشتہ سال کی 3.7فیصد کے مقابلے میں 2.6فیصد تک کم ہوگئی۔











