روسی مستقل مندوب کی پاکستانی پارلیمانی وفد سے ملاقات، مسئلہ کشمیر اور آبی معاہدے پر تبادلہ خیال

12

اقوام متحدہ ،03 جون (اے پی پی): اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب سفیر ویسیلی نبینزیا نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں امریکا کے دورے پر موجود اعلیٰ سطحی پاکستانی پارلیمانی وفد سے ملاقات کی۔

ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری نے پہلگام حملے کے بعد کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد اور شواہد سے عاری قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کی قبل از وقت اور یکطرفہ کارروائیوں، خصوصاً سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے جیسے اقدامات، خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ردعمل ذمہ دارانہ، متوازن اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں تھا جس کا مقصد خطے میں امن کا قیام اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنا تھا۔ بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے جہاں 80 ہزار سے زائد شہریوں نے جانیں گنوائیں، اور بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کے شواہد بھی دنیا کے سامنے رکھے جا چکے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کا انحصار جموں و کشمیر کے تنازعے کے منصفانہ اور پرامن حل پر ہے، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری، سینیٹر مصدق ملک نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے انسانی اثرات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس معاہدے میں اسے معطل کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔

وفد نے اس موقع پر پاکستان کے پرامن، ذمہ دار اور مذاکرات پر مبنی مؤقف کو دہرایا اور خطے میں استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔