موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر ترقیاتی بجٹ میں کمی ایک بڑا چیلنج ہے، احسن اقبال

17

اسلام آباد، 2 جون (اے پی پی): وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر ترقیاتی بجٹ میں کمی ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم حکومت آمدنی میں اضافے، بیرونی ادائیگیوں میں توازن اور اہم ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے موثر اقدامات اٹھا رہی ہے۔

وہ پیر کو یہاں سالانہ منصوبہ برائے 2025-26 اور ترقیاتی ترجیحات کے حوالے سے منعقدہ اے پی سی سی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر خالد مقبول، وفاقی سیکریٹریز، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، صوبائی حکومتوں کے نمائندے، مختلف قومی و صوبائی اداروں کے سربراہان اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں چیف اکانومسٹ ڈاکٹر امتیاز نے سالانہ منصوبے، اقتصادی ترقی کے روڈمیپ اور قومی ترجیحات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے ترقیاتی بجٹ کیلئے 1000 ارب روپے مختص کیے ہیں اور محدود وسائل کے باوجود اہم منصوبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی فنڈز میں کمی شرح نمو، معاشی اہداف اور عوامی فلاح و بہبود پر اثرانداز ہو رہی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت قرضوں کی بھاری ادائیگی کا سامنا ہے اور بجٹ کا نصف سے زائد حصہ ان ادائیگیوں پر صرف ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ اور ٹیکس چوری کی روک تھام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’اڑان پاکستان‘‘ پروگرام کے تحت تمام صوبوں میں ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا ہے تاکہ قومی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ 118 سے زائد غیر مؤثر منصوبے محدود وسائل کے باعث بند کیے گئے ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے منصوبے تیزی سے مکمل کیے جائیں گے اور تعلیمی شرح میں اضافے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی سٹریٹجک نوعیت کے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں گے جن میں دیا میر بھاشا ڈیم، سکھر-حیدرآباد موٹر وے، چمن روڈ اور قراقرم ہائی وے فیز ٹو شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو اپنے ترقیاتی منصوبے خود مکمل کرنے کی ضرورت ہے تاہم وفاق نے ہمیشہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ تعاون کیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ عوام حکومت سے صحت، تعلیم، پانی، بجلی اور معیاری انفراسٹرکچر کی توقع رکھتے ہیں، لہٰذا قومی ترقی کیلئے تمام اداروں کو مشترکہ طور پر ذمہ داری نبھانا ہو گی۔