اسلام آباد، 10جون(اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ تنخواہ دار طبقے پرٹیکسوں کے بوجھ کو کم سے کم کیا جائے۔ اس حوالے سے تنخواہ دار لوگوں کے لیے آمدنی کے تمام سلیبس میں انکم ٹیکس کی شرحوں میں نمایاں کمی کی تجویز ہے۔ یہ ریلیف نہ صرف ٹیکس کے ڈھانچے کو آسان بنائے گا بلکہ متوسط آمدنی والوں پر عائد ٹیکس کے بوجھ کو کم کرکے،افراط شر اور ٹیک ہوم تنخواہ کے درمیان توازن کو یقینی بنائے گا۔
آج قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ چھ لاکھ روپے سے بارہ لاکھ روپے تک تنخواہ پانے والوں کے لئے ٹیکس کی شرح 5 فیصدسے کم کر کے صرف 2.5 فیصد کر دی گئی ہے۔ بارہ لاکھ آمدنی والے تنخواہ دار پر ٹیکس کی رقم کو 30,000 سے کم کر کے 6,000 کر دینے کی تجویز ہے۔ جو لوگ 22 لاکھ روپے تک تنخواہ لیتے ہیں ان کے لئے کم سے کم ٹیکس کی شرح 15 فیصد کے بجائے 11 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ اسی طرح زیادہ تنخواہیں حاصل کرنے والوں کے لئے بھی ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز دی جارہی ہے۔
بائیس لاکھ روپے سے بتیس لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والوں کے لئے ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے کم کر کے 23 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ یہ اقدام ٹیکسوں کو منصفانہ بنانے اور ٹیکس ادا کرنے والے تنخواہ دار افراد پر بوجھ کو کم کرنے کے حکومتی عزم کا آئینہ دار ہے۔











