اقوام متحدہ، 17 جولائی(اے پی پی ): اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں غزہ کی موجودہ انسانی صورتحال پر بریفنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو فوری، عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ وہاں پیدا ہونے والے انسانی بحران پر قابو پایا جا سکے۔
انہوں نے اجلاس میں شریک اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور ٹام فلیچر اور یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل کی تفصیلی بریفنگز کا شکریہ ادا کیا اور ان کے کام کو سراہا۔
سفیر کا کہنا تھا کہ غزہ میں پیش آنے والی صورتحال الفاظ سے باہر ہے اور یہ ایک ایسا انسان ساختہ بحران ہے جس کی شدت روز بروز بڑھ رہی ہے۔انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ حالیہ مہینوں میں غزہ میں 58 ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور 138 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ وسیع پیمانے پر رہائشی علاقوں کی تباہی اور بنیادی ڈھانچے کی ناکامی نے عام شہریوں کو انتہائی غیر محفوظ حالات میں چھوڑ دیا ہے۔
اُن کے مطابق غزہ میں اسپتالوں کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی ہے اور خوراک، ایندھن اور طبی امداد کی رسائی تقریباً معطل ہو چکی ہے۔سفیر نے 12 جولائی کے واقعے کا حوالہ دیا جس میں غزہ شہر میں خوراک کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے شہریوں پر فائرنگ کی گئی۔ اس واقعے میں خواتین، بچے اور مرد جاں بحق ہوئے۔
اس حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ امدادی سرگرمیوں کے خلاف جاری رکاوٹوں اور پرتشدد کارروائیوں کا تسلسل ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے موجودہ امدادی نظام کو ناکافی اور غیر مؤثر قرار دیا جو شہریوں کو فعال جنگی علاقوں میں جانے پر مجبور کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مئی سے اب تک 798 امدادی کارکن جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں سے اکثریت اقوام متحدہ کے مراکز یا اُن کے قریب نشانہ بنی۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں اقوام متحدہ کے تحت قائم کردہ امدادی مراکز کا وسیع نیٹ ورک ختم ہو چکا ہے اور اس کی جگہ ایک محدود اور عسکری بنیادوں پر قائم نظام نے لے لی ہے، جو خود انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
انہوں نے بچوں کے لیے دودھ اور دیگر بنیادی اشیاء کی عدم فراہمی کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ نومولود بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں، جس کا فوری تدارک ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال کسی بھی اخلاقی یا قانونی اصول کے تحت قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔
سفیر نے واضح کیا کہ ایندھن، ادویات اور پناہ گاہوں کی شدید قلت کے باعث اسپتالوں، پانی و صفائی کے نظام، ٹیلی کمیونیکیشن، بیکریوں، ایمبولینسوں اور امدادی کارروائیوں کا بند ہونا یقینی ہو چکا ہے، جس کے اثرات 21 لاکھ متاثرہ آبادی پر مرتب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے غیر جانبدار انسانی امدادی نظام کو محدود کرنے کو ایک خطرناک نظیر قرار دیا جو نہ صرف غزہ بلکہ مستقبل کے دیگر تنازعات میں بھی شہریوں کی سلامتی پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ عسکری و منتخب امدادی طریقہ کار بین الاقوامی انسانی قانون کے بنیادی اصولوں کی نفی ہے۔
انہوں نے 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر قائم ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ پاکستان نے سعودی عرب اور فرانس کی زیرِ صدارت مجوزہ امن کانفرنس سے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت کی راہ ہموار کرے گی۔
سفیر نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ سلامتی کونسل اور عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ عملی اقدامات سے یہ ثابت کرے کہ وہ انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور انسانی وقار کے ساتھ کھڑی ہے، نہ کہ ایک تماشائی کے طور پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔











