اسلام آباد، 4 جولائی ملک بھر میں محرم الحرام کے موقع پر سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات اور شہری سہولت کے لیے مربوط حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔ ضلعی، صوبائی اور وفاقی سطح پر اداروں کے درمیان مکمل رابطہ اور ہم آہنگی کے ساتھ جلوسوں، مجالس اور دیگر مذہبی سرگرمیوں کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ سمیت تمام بڑے شہروں میں محرم کے مرکزی جلوسوں کے لیے سکیورٹی پلانز کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے فیلڈ میں متحرک ہوں گے، جب کہ مخصوص حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی جا رہی ہے۔
جلوسوں کے روٹس پر واک تھرو گیٹس، سی سی ٹی وی کیمرے اور میٹل ڈیٹیکٹرز نصب کیے جا رہے ہیں، اور پارکنگ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے متبادل راستوں کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ عوام کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کی جا سکے۔
عوامی سہولت کے لیے بجلی، پانی، صفائی اور طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بلدیاتی ادارے، ریسکیو 1122 اور محکمہ صحت الرٹ ہیں۔ ضلعی و تحصیل ہسپتالوں میں ایمرجنسی وارڈز فعال کیے جا رہے ہیں اور ایمبولینس سروس کو جلوسوں کے روٹس کے قریب تعینات کیا جا رہا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جلوس منتظمین سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے، اور ضلعی سطح پر کنٹرول رومز قائم کیے گئے ہیں جہاں سے جلوسوں کی نگرانی اور فوری رسپانس کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں، نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع قریبی حکام کو دیں۔ محرم الحرام کا مہینہ امن، صبر اور بھائی چارے کا پیغام لے کر آتا ہے، جسے برقرار رکھنے میں ہر فرد کا کردار اہم ہے۔











