اسلام آباد، 18 جولائی (اے پی پی): وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت آج اسلام آباد میں ملک میں الیکٹرک وہیکلز کی حوصلہ افزائی، الیکٹرک بائیکس، رکشہ و لوڈر کے حصول میں حکومتی معاونت پر اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرک وہیکلز کی حوصلہ افزائی سے ایندھن کی مد میں اربوں ڈالر کے قیمتی زرِ مبادلہ کی بچت، ماحولیاتی تحفظ میں معاونت اور مقامی صنعت کو فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عام آدمی تک الیکٹرک وہیکل کی رسائی کے لیے حکومتی سطح پر ایک جامع لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔
وزیرِ اعظم نے اعلان کیا کہ وفاقی حکومت، فیڈرل بورڈ سمیت ملک بھر کے تعلیمی بورڈز میں انٹرمیڈیٹ سطح پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلباء و طالبات کو مفت الیکٹرک بائیکس فراہم کرے گی، جبکہ بے روزگار افراد کو روزگار کی فراہمی کیلئے ترجیحی بنیادوں پر الیکٹرک رکشے اور لوڈرز دیے جائیں گے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت ایک لاکھ سے زائد الیکٹرک بائیکس اور تین ہزار سے زائد رکشوں و لوڈرز کی فراہمی میں کم لاگت اور آسان شرائط پر قرض کی سہولت فراہم کرے گی۔ اسکیم کے تحت خواتین کے لیے 25 فیصد خصوصی کوٹہ مختص کیا گیا ہے، جبکہ آبادی کے تناسب سے صوبوں کے کوٹے مقرر کیے گئے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے بلوچستان کا کوٹہ 10 فیصد تک بڑھانے کی ہدایت بھی کی۔
وزیرِ اعظم نے ملک میں الیکٹرک وہیکلز کی تیاری اور مینٹنینس کے لیے ایک مکمل ایکو سسٹم تشکیل دینے اقدامات کی ہدایت کی، اور کہا کہ الیکٹرک وہیکلز کی تقسیم، حکومتی معاونت اور کوالٹی پر مبنی اسکیم کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے ہدایت دی کہ حکومتی اسکیم میں دی جانے والی الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور لوڈرز کے معیار اور سیفٹی اسٹینڈرڈز پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے، جبکہ عوامی آگاہی مہم کے ذریعے زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو اس اسکیم سے فائدہ پہنچایا جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، معاونِ خصوصی ہارون اختر، چیف کوآرڈینیٹر مشرف زیدی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ اس اسکیم کی بدولت ملک میں بیٹری بنانے والی چار نئی کمپنیاں اپنے آپریشن کا آغاز کر رہی ہیں، جس سے پاکستان میں کاروبار اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیرِ اعظم نے اس اسکیم کے جلد اجراء کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی۔











