برمنگھم، 18 جولائی )اے پی پی ): وفاقی وزیر تجارت، جناب جام کمال خان نے اپنے سرکاری دورے کے دوران برمنگھم میں مختلف اہم اجلاسوں اور ملاقاتوں میں شرکت کی، جن کا مقصد پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینا، نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنا اور برطانوی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات کے امکانات کو وسیع کرنا تھا۔
اس موقع پر وزیر تجارت نے گریٹر برمنگھم چیمبر آف کامرس کے ساتھ ایک مفصل نشست کی، جس میں انہوں نے پاکستان کی برآمدات کو برطانیہ کی صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے مڈلینڈز کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی روابط کو سراہتے ہوئے پاکستان کی ان نئی ابھرتی ہوئی صنعتوں کو اجاگر کیا جن میں پروسیسڈ فوڈز، فشریز، فارماسیوٹیکلز، لیدر گڈز، آئی ٹی سروسز، فرنیچر، سرامکس، اور اسپورٹس گڈز شامل ہیں۔
وزیر موصوف نے برطانوی کاروباری طبقے کو پاکستان کی اعلیٰ معیار کی مصنوعات، جیسے باسمتی چاول، آم، اور حلال سرٹیفائیڈ فوڈ آئٹمز کی درآمد کی ترغیب دی۔ انہوں نے پاکستان کو جدید مینوفیکچرنگ اور آٹوموٹو سپلائی چین کے لیے ایک قابل اعتماد پارٹنر قرار دیتے ہوئے، ملک کی لاگت مؤثر پیداوار، لائٹ انجینئرنگ، میٹل فیبریکیشن، اور آٹوموٹو پرزہ جات کی فراہمی میں مہارت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے پاکستان کی نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی اور قابلِ تجدید توانائی سے متعلق اقدامات پر بھی روشنی ڈالی، اور بیٹری ٹیکنالوجی و الیکٹرک ڈرائیو ٹرینز کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کو برمنگھم کی گرین موبلٹی پالیسی سے ہم آہنگ قرار دیا۔
دورے کے دوران وزیر تجارت نے برمنگھم سٹی فٹبال کلب کا بھی معائنہ کیا، جہاں انہوں نے کمیونٹی انگیجمنٹ پروگرامز کا مشاہدہ کیا اور پاکستان کی فٹبال انڈسٹری کی عالمی سطح پر پذیرائی پر اظہارِ خیال کیا۔ اس موقع پر پاکستانی فٹبالز کی عالمی شہرت کو بھی اجاگر کیا گیا۔
بعد ازاں انہوں نے برطانیہ کی معروف فوڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی Nouvo کا دورہ کیا اور پاکستانی فوڈ مصنوعات کے نمایاں درآمد کنندگان و ریٹیلرز سے ملاقات کی۔ Nouvo ان کمپنیوں میں شامل ہے جو برطانیہ کی بڑی سپرمارکیٹس میں پاکستانی برانڈز کو متعارف کرانے میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔
اس ملاقات کے دوران حلال سرٹیفائیڈ اور(ethnic)پاکستانی فوڈ مصنوعات کی برطانوی مارکیٹ تک رسائی، تجارتی سپلائی چین کی مضبوطی، اور ان مصنوعات کو مین اسٹریم مارکیٹ میں لانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ تمام سرگرمیاں پاکستان کی صنعتی شراکت داری، علاقائی ویلیو چینز، اور اوورسیز پاکستانیوں کی قیادت میں تجارتی سفارت کاری کو فروغ دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جو پاکستان کو برطانیہ کے لیے ایک ویلیو ایڈیڈ تجارتی شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔











