وفاقی وزیر تجارت کی لندن چیمبر آف کامرس سے اہم ملاقات، پاک-برطانیہ تجارتی تعاون کو “گیم چینجر” قرار دیا

21

لندن، 18 جولائی (اے پی پی ): وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اپنے دورہ لندن کے دوران لندن چیمبر آف کامرس سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو فروغ دینے اور باہمی سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیر تجارت نے اس ملاقات کو پاک-برطانیہ تجارتی تعلقات کے لیے “گیم چینجر” قرار دیا اور کہا کہ پاکستان عالمی معیشت میں مؤثر شراکت داری کے لیے پرعزم ہے۔

ملاقات کے دوران جام کمال خان نے برطانوی اداروں کو پاکستان کے ساتھ یادداشت ہائے تفاہم (MoUs) کے قیام کی دعوت دی، اور کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 3.2 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، جو پاکستان کی ٹیکنالوجی اور سروس سیکٹر کی مضبوطی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے برطانوی کمپنیوں کو فِن ٹیک، بلاک چین، اور ڈیجیٹل فنانس جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

وزیر تجارت نے اس موقع پر زور دیا کہ پاکستان گرین انرجی کی منتقلی کے لیے تیار ہے اور برطانوی کمپنیوں کے ساتھ سولر ہیٹنگ اپلائنسز، پھل و سبزیوں کی سپلائی چین، اور دیگر پائیدار توانائی منصوبوں میں شراکت داری کے لیے موزوں فریم ورک فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ان منصوبوں پر فوری عملدرآمد کی بھی ہدایت کی۔

بعد ازاں، جام کمال خان نے یو کے پاکستان چیمبر آف کامرس کے نمائندگان سے ملاقات کی اور تجویز پیش کی کہ برطانوی درآمد کنندگان اور پاکستانی سپلائرز کے درمیان مؤثر میچ میکنگ کے لیے باقاعدہ ادارہ جاتی طریقہ کار اختیار کیا جائے تاکہ دونوں ممالک کے نجی شعبے کو قریب لایا جا سکے۔

پاکستان-برطانیہ بزنس کونسل سے گفتگو کے دوران وزیر تجارت نے پی آئی اے کی برطانیہ کے لیے پروازوں کی بحالی کو خوش آئند قرار دیا اور اسے دو طرفہ تجارتی و کاروباری روابط کے لیے معاون پیش رفت کہا۔

وفاقی وزیر نے لندن میں پاکستانی کمیونٹی کے اعزاز میں ایک عشائیے میں شرکت کی جہاں انہوں نے نجی شعبے اور خاص طور پر خواتین کاروباری افراد و ایس ایم ایز سے روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان تجارتی سفارت کاری کو ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار کر رہی ہے تاکہ غیر روایتی برآمدات، ثقافتی صنعتوں، اور چھوٹے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو سکے۔