وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی ایف اے او وفد کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقات، زرعی تعاون اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال

19

اسلام آباد،25 جولائی (اے پی پی ): وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق جناب رانا تنویر حسین نے آج اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد پاکستان کے زرعی و لائیوسٹاک شعبے میں جاری اشتراکِ عمل کا جائزہ لینا اور مستقبل میں تعاون کے مزید مواقع تلاش کرنا تھا۔

ایف اے او کے وفد کی قیادت جناب تھاناوت تیئنسن (Thanawat Tiensin)، اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل اور ڈائریکٹر برائے اینیمل پروڈکشن اینڈ ہیلتھ ڈویژن نے کی۔ اس موقع پر پاکستان میں ایف اے او کی نمائندہ محترمہ فلورنس رول بھی موجود تھیں، جو پاکستان میں اپنی چار سالہ تعیناتی مکمل کر رہی ہیں۔

ملاقات میں پاکستان اور ایف اے او کے دیرینہ تعلقات پر گفتگو ہوئی، جن کا آغاز 1947 میں ہوا تھا اور آج یہ شراکت داری ملک کے 94 اضلاع میں جاری مختلف منصوبوں پر محیط ہے۔ وفاقی وزیر نے ایف اے او کی خدمات کو سراہا، خصوصاً زرعی شعبے کو عالمی بہترین طریقوں، تکنیکی معاونت اور پالیسی سازی میں تعاون فراہم کرنے پر۔ انہوں نے ایف اے او کے نئے عالمی ورک پلان کا خیرمقدم کیا جو 194 رکن ممالک کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے اور اس پر عملدرآمد میں پاکستان کی بھرپور شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر نے زرعی و لائیوسٹاک شعبے کی بحالی، فوڈ سیکیورٹی کے تحفظ، اور ویلیو ایڈڈ برآمدات کو فروغ دینے کے لیے حکومت کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے میں ایف اے او کے تعاون کو سراہا۔ جناب تھاناوت تیئنسن نے پاکستان کے لائیوسٹاک سیکٹر کی بے پناہ صلاحیت کو اجاگر کیا اور بیماریوں پر قابو، فوڈ سیفٹی، اور برآمدی معیار میں بہتری کے لیے حکومتی اقدامات کو سراہا۔

وفاقی وزیر نے وفد کو بتایا کہ حال ہی میں پاکستان نے نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی (NAFSA) قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس اتھارٹی کو مصر کے کامیاب ادارہ جاتی ماڈل کی طرز پر استوار کرنا چاہتا ہے۔ مصر کی NAFSA کو خوراک کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر ماڈل تسلیم کیا گیا ہے، جس سے پاکستان سیکھنے کا خواہاں ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کا ایک تکنیکی وفد مصر کا دورہ کرے گا تاکہ وہاں اپنائی گئی بہترین پالیسیوں اور ادارہ جاتی ڈھانچوں کا مطالعہ کیا جا سکے۔

وفاقی وزیرِ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے ایف اے او میں وزیرِ زراعت کی نمائندگی موجود نہیں، جسے جلد از جلد بحال کیا جانا چاہیے۔

جناب تھاناوت تیئنسن نے پاکستان کے لیے برازیل کے زرعی ترقیاتی ماڈل کو قابلِ مطالعہ قرار دیا، جس نے تحقیق اور جدت کے ذریعے خوراک کی قلت سے نکل کر دنیا کا بڑا خوراک برآمد کنندہ ملک بننے تک کا سفر طے کیا۔ وفاقی وزیر نے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (PARC) کی بحالی کے عزم کا اعادہ کیا اور اسے وزیراعظم کے وژن کے مطابق سائنس پر مبنی زرعی ترقی سے ہم آہنگ کرنے کی بات کی۔ انہوں نے چین اور یورپ کے ممتاز تحقیقاتی اداروں سے اشتراک بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔

وفاقی وزیر نے ایف اے او میں پاکستان کے مستقل مندوب جناب محبوب کے کردار کو سراہا، جنہوں نے دو طرفہ سفارتی روابط کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ کورونا وبا کے دوران ایف اے او نے پاکستان کی مدد کے لیے بیس ملین امریکی ڈالر فراہم کیے، جن سے جانوروں کی صحت کے نظام اور بیماریوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنایا گیا۔

ملاقات کے اختتام پر وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے ایف اے او کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار زراعت، لائیوسٹاک کی ترقی، اور خوراک کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں اور اس سلسلے میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔