پاکستان کا یمن کے بحران کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری پر زور

14

اقوام متحدہ، 9 جولائی (اے پی پی ): پاکستان نے یمن میں امن کی بحالی کے لیے فوری، اجتماعی اور تعمیری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جامع سیاسی عمل کو ازسرِ نو فعال کرنا اور سیاسی، انسانی اور معاشی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے یمن سے متعلق اجلاس میں آج پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے قومی مؤقف پیش کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو جنگ دوبارہ بھڑک سکتی ہے، جو نہ صرف جاری کمزور امن کوششوں کو متاثر کرے گی بلکہ یمنی عوام کی تکالیف میں بھی شدید اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایک جامع حکمت عملی، جو وسیع تر سیاسی مکالمے اور فوری انسانی امداد پر مبنی ہو، یمن میں دیرپا امن و استحکام کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

سفیر نے کہا، “سلامتی کونسل کو ایک متحد، واضح اور دوٹوک پیغام دینا ہوگا: یمن کے عوام کو امن، وقار، اور ایک ایسا مستقبل چاہیے جو خوف، بھوک اور مایوسی سے پاک ہو۔” انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان یمن کی خودمختاری، اتحاد، سالمیت اور استحکام کے لیے پرعزم ہے اور ایک منصفانہ، جامع اور پائیدار حل کے لیے ہر ممکن کوششوں کی حمایت کرے گا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن میں امن اور سلامتی کی بحالی کے لیے پاکستان کی تجاویز بھی پیش کیں۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ دسمبر 2023 کے روڈ میپ کو بنیاد بناتے ہوئے سیاسی حل کی طرف بڑھیں، اور علاقائی ممالک اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے کردار کو سراہا جو یمنی قیادت میں امن عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

علاقائی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان نے خطے میں کشیدگی میں کمی اور سفارتی کوششوں پر زور دیا، اور کہا کہ یمن میں امن مشرقِ وسطیٰ میں وسیع تر سیاسی حل سے جڑا ہوا ہے، جس میں غزہ میں فوری جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے۔

انسانی بحران کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ یمن کے 1.8 کروڑ سے زائد افراد فوری انسانی امداد کے محتاج ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ انسانی امداد میں اضافہ کرے، فنڈنگ کو یقینی بنائے اور امدادی سرگرمیوں کو وسعت دے۔

پاکستان نے حوثی گروپ کے ہاتھوں اقوام متحدہ کے اہلکاروں، سفارتی عملے اور امدادی کارکنوں کی بلاجواز حراست کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی اور یمن بھر میں غیر مشروط انسانی رسائی کا مطالبہ کیا۔سفیر آصف نے کہا کہ پاکستان کو یمن میں جاری بحران پر گہری تشویش ہے۔

انہوں نے کہا، “سالہا سال سے جاری تنازع نے یمنی عوام کو شدید اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ سیاسی انتشار، معاشی زبوں حالی، اور ماحولیاتی تباہی نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ یہ بحران جو کبھی داخلی نوعیت کا تھا، اب علاقائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس کے اثرات عالمی امن و سلامتی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔