ایگری سٹیک کا مقصد زراعت کے سٹرکچرل مسائل کا حل نکالنا ہے، شزا فاطمہ خواجہ

18

 

اسلام آباد، 08 اگست (اے پی پی ):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہےکہ ایگری سٹیک کا مقصد زراعت کے سٹرکچرل مسائل کا حل نکالنا ہے، ایگری سٹیک کسانوں کی تصدیق شدہ شناخت، زمین سے متعلق ڈیٹا کے انٹگریشن ، درست مشاورتی سہولیات اور سبسڈی، فصل انشورنس و کریڈٹ جیسی خدمات کی موثر فراہمی کو ممکن بنائے گا۔جمعہ کووزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق ،لینڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ سسٹم (ایل آئی ایم ایس) اور سپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے اشتراک سے نیشنل انکیوبیشن سینٹر اسلام آباد میں ’’ایگری سٹیک -پاکستان کے زرعی مستقبل کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر‘‘ کے عنوان سے ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا۔ اس مشاورتی سیشن میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندگان، ایگری ٹیک سٹارٹ اپس، ٹیلی کام، فن ٹیک اداروں، بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں، کسان تنظیموں اور تعلیمی اداروں کے ماہرین نے بذات خود اور آن لائن شرکت کی تاکہ زرعی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے مشترکہ وژن پر اتفاق رائے قائم کیا جا سکے۔وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایگری سٹیک کا مقصد زراعت کے سٹرکچرل مسائل کا حل نکالنا ہے جن میں فریگمنٹڈ ڈیٹا، کسانوں کی شناخت اور کریڈٹ ہسٹری کی کمی، سبسڈی کی غیر موثر تقسیم اور کمزور مارکیٹ رسائی شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایگری سٹیک کسانوں کی تصدیق شدہ شناخت، زمین سے متعلق ڈیٹا کے انٹگریشن ، درست مشاورتی سہولیات اور سبسڈی، فصل انشورنس و کریڈٹ جیسی خدمات کی موثر فراہمی کو ممکن بنائے گا۔ یہ ایک جامع اور ٹیکنالوجی پر مبنی زرعی انقلاب کی بنیاد ہے جو وزیراعظم شہباز شریف کے وژن ’ڈیجیٹل نیشن پاکستان‘ کے تحت ایس آئی ایف سی کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے۔

 ڈائریکٹر جنرل ایل آئی ایم ایس میجر جنرل (ر) محمد ایوب احسن بھٹی نے بھی اجلاس سے خطاب کیا اور اس انقلابی اقدام کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ایگری سٹیک/پاک گرو ایک منفرد تصور ہے جو پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرے گا، خاص طور پر چھوٹے کسانوں کی زندگیوں میں بہتری لاتے ہوئے پالیسی سازی میں معاونت فراہم کرے گا۔چیف ایگزیکٹو آفیسر ایل آئی ایم ایس ڈاکٹر محمد وقار یاسین نے وضاحت کی کہ ایل آئی ایم ایس اس منصوبے کی تکنیکی بنیاد کے طور پر کام کرے گا اور پاکستان کے لیے نیشنل ایگری ڈیٹا بیس کی حیثیت سے مختلف ذرائع سے ڈیٹا کو یکجا کر کے فارم کی مخصوص معلومات تیار کرے گا تاکہ تمام سٹیک ہولڈرز کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔چیف ایگزیکٹو آفیسر اگنائٹ رفیق احمد بریرو نے وفاقی وزیر اور ڈی جی ایل آئی ایم ایس کے موقف کی تائید کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محفوظ، قابل توسیع اور اوپن ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے بھرپور تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ ایگری سٹیک کو ملک بھر میں پائیدار اور جدید زرعی حل کا ستون بنایا جا سکے۔اس اقدام کے بنیادی اجزاء میں کسانوں کے ڈیجیٹل شناختی کارڈز و رجسٹریز، رضامندی پر مبنی ڈیٹا شیئرنگ، محفوظ ادائیگی کے نظام، سیٹلائٹ سے حاصل کردہ فصلوں کی معلومات اور ڈیجیٹل مارکیٹ پلیٹ فارمزشامل ہیں۔ اس مشاورتی اجلاس کا مقصد حکمرانی کے ڈھانچے پر اتفاق اور ایل آئی ایم ایس کے ذریعے تیز رفتار نفاذ کو یقینی بنانا تھا۔ شرکا نے وزارت آئی ٹی و وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی مشترکہ سربراہی میں ایک سٹیئرنگ کمیٹی، ڈیٹا و سائبر سکیورٹی پر مشتمل ایک تکنیکی ورکنگ گروپ اور سرکاری و نجی شعبوں سے پائلٹ سکواڈز کے قیام کی منظوری دی۔آئندہ 12 سے 18 ماہ کے دوران اس اقدام میں ترجیحی بنیادوں پر جن پہلوؤں پر کام کیا جائے گا ان میں سمارٹ سبسڈی، موسمیاتی انڈیکس پر مبنی فصل انشورنس، متبادل ڈیٹا کے ذریعے قرض تک رسائی اور مارکیٹ سے روابط کا قیام شامل ہے ۔اجلاس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ ورکنگ گروپس قائم کیے جائیں گے، 3 سے 4 پائلٹ منصوبے شروع کیے جائیں گے اور ایک واضح روڈمیپ کے تحت قابل پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں گے تاکہ زرعی شعبے کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنایا جا سکے۔